ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جب تک ’’جارحین‘‘ اپنے اقدامات پر مکمل طور پر پشیمان نہیں ہو جاتے تہران حملوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گا ۔
پزشکیان نے آج بروز منگل ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ایران ہمیشہ جنگ کی مخالفت کرتا رہا اور عوام کے مفادات اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے جنگی جنون سے گریز کو اپنی ترجیح بناتا رہا ہے۔ تاہم، جس طرح ایران نے اب تک جارحیت کے خلاف بہادری سے اپنا دفاع کیا ہے اسی طرح اب کے بعد بھی اس وقت تک کرنا جاری رکھے گا جب تک کہ جارحین اپنے اقدامات پر مکمل طور پر پشیمان نہیں ہو جاتے۔ ہم، عظیم ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے۔‘‘
پزشکیان نے یہ بیانات امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور پورے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں جاری کئے ہیں۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد ایران اور امریکہ نے جون میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں دشمنی ختم کرنے اور مستقبل میں مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دینے کی بات کی گئی تھی۔
تہران نے واشنگٹن کو اس مفاہمت کی خلاف ورزی کرنے اور اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔ ایرانی حکام متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ کشیدگی میں کمی کے لیے امریکہ کو اپنی فوجی کارروائیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
منگل کے روز مذکورہ بیان سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے جاپانی ہم منصب توشیمیتسو موتیگی کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی ۔ مذاکرات میں انہوں کہا ہے کہ واشنگٹن کا اسلام آباد مفاہمت کے تحت کیے گئے وعدوں پر واپس آنا کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کرے گا۔
عراقچی نے مزید کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے عارضی گزرگاہ کے قیام کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔



















