ایران کے اعلیٰ سفارتکار نے تیز رفتار سفارتی دورے کے سلسلے میں روس میں پہنچتے ہی مذاکرات کی ناکامی کا الزام واشنگٹن پر لگایا، جبکہ جنگ کے فریقین کے درمیان براہِ راست گفت و شنید بظاہر معطل لگ رہی ہے۔
وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں یہ بیانات دیے، جہاں وہ متوقع طور پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے، اور گزشتہ چند روز کے دوران ثالث پاکستان کے دوروں کے درمیان عمان کا ایک دورہ بھی شامل تھا۔
اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلی اور واحد ناکام مذاکراتی دور کی میزبانی کی تھی، اور عراقچی کے دورے نے ہفتے کے آخر میں نئی بات چیت کی امیدیں بڑھا دیں، جب تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر کے طے شدہ دورے کو منسوخ نہیں کر دیا۔
عراقچی نے پیر کو کہا کہ "امریکہ کے نقطِ نظر کی وجہ سے گزشتہ دورِ مذاکرات، پیش رفت کے باوجود، حد سے زیادہ مطالبات کی بنا پر اپنے مقاصد تک پہنچنے میں ناکام رہے۔"
اپنے نمائندوں کے دورے منسوخ کرنے کے بعد ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اگر ایران بات چیت چاہتا ہے تو "وہ ہمارے پاس آ سکتا ہے، یا ہمیں کال کر سکتا ہے"، تاہم انہوں نے کہا کہ اس منسوخی کا مطلب جنگ کی طرف واپسی نہیں ہے۔
پسِ پردہ کوششوں کے جاری رہنے کی علامت کے طور پر فارس نیوز ایجنسی نے کہا کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکیوں کو "تحریری پیغامات" پہنچائے جن میں سرخ حدود واضح کی گئی تھیں، جن میں ایٹمی معاملات اور آبنائے ہرمز شامل ہیں۔ تاہم فارس نے کہا کہ یہ پیغامات باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھے۔
امریکی میڈیا آکسیوس نے ایک امریکی عہدیدار اور دو دیگر ذرائع کے حوالے سے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نئی تجویز بھیجی ہے جس کا محور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور وہاں امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ تھا، جبکہ نیوکلیئر مذاکرات بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے اس رپورٹ کا حوالہ دیا مگر اسے رد نہیں کیا۔
عالمی مسئلہ
عمان کے دورے کے دوران ہرمز کا موضوع ایجنڈے میں شامل تھا، جو ایران کے مقابل ساحل پر واقع ہے۔ عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں کہا کہ "آبنائےہرمز کے ذریعے محفوظ گزر ایک اہم عالمی معاملہ ہے۔ فطری طور پر، اس گزر گاہ کےدو ساحلی ممالک ہونے کے ناطے ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے تاکہ ہمارے مشترکہ مفادات محفوظ رہیں۔"
روسی اور ایرانی سرکاری میڈیا نے حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے تصدیق کی کہ عراقچی پوتن سے بات کریں گے۔
تاہم ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ وہ اپنے معیشت کو ہلا دینے والے محاصرے کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اور کہا کہ ہرمز پر کنٹرول اور امریکہ پر اپنے روک تھام کے اثرات کے سائے کو برقرار رکھنا تہران کی حتمی حکمتِ عملی ہے۔










