ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نےکہا ہے کہ وہ دن کے ابتدائی گھنٹوں میں اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان واپس آئیں گے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا 'IRNA' کے مطابق "عراقچی، دورہ عمان مکمل کرنے کے بعد روس جانے سے قبل دوبارہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔"
ان کے وفد کا ایک حصہ جنگ کے خاتمے سے متعلقہ امور پر مشاورت کرنے اور ضروری ہدایات لینے کےلئے تہران واپس چلا گیا ہے اور اتوار کی شب اسلام آباد میں دوبارہ عراقچی سے آ ملے گا۔
سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں
عراقچی نے کہا ہے کہ دورہ پاکستان کے دوران انہوں نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک عملی اور قابلِ نفاذ فریم ورک سے متعلق ایران کا مؤقف پیش کیا اور دورہ "بہت مفید" رہا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عراقچی نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ واشنگٹن سفارتی کوششوں کے حوالے سے "واقعی سنجیدہ"ہے یا نہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ انہیں ایک نئی دستاویز موصول ہوئی ہے جو ان کے بقول "پہلے سے بہتر"ہے۔
عراقچی تہران کی جانب سے امن تجاویز کا جواب پاکستانی ثالث کے حوالے کرنے کے بعد عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے تھے۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے ایلچی جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کا پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ عراقچی ثالثانہ عمل کو جاری رکھنے کے لیے اتوار یا پیر کو دوبارہ اسلام آباد پہنچیں گے۔














