ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
1915 کے واقعات کے بہانے اسرائیل اپنے جرائم چھپارہا ہے:ترکیہ
ترکیہ نے 1915 کے واقعات کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ایسا سیاسی اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا ہے
1915 کے واقعات کے بہانے اسرائیل اپنے جرائم چھپارہا ہے:ترکیہ
ترک امور خارجہ / Public domain

ترکیہ نے 1915 کے واقعات کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ایسا سیاسی اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا ہے۔

ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ  'پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے فلسطینی عوام پر منظم مظالم ڈھانے والی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف  میں غزہ کے عوام کے خلاف نسل کشی کے جرم میں مقدمے کا سامنا کرنے والی اسرائیلی حکومت، 1915 کے واقعات سے متعلق منظور کردہ سیاسی فیصلے کے ذریعے اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔'

وزارت نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ قانونی اور تاریخی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے اور نیتن یاہو اور ان کے حامیوں پر موجود اُس دباؤ کی عکاسی کرتا ہے جو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کے باعث بین الاقوامی فوجداری عدالت  کی طرف سے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پیدا ہوا ہے۔

ترکیہ نے واضح کیا کہ وہ خطے میں 'اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں' کو ختم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا، اور ساتھ ہی نیتن یاہو حکومت کو فلسطینی عوام سمیت شہریوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کا جوابدہ بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے گا۔

1915 کے واقعات کو نام نہاد نسل کشی تسلیم کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے ترکیہ ان واقعات کو ایک ایسا المیہ قرار دیتا ہے جس میں دونوں فریقین کا جانی نقصان ہوا تھا۔

انقرہ نے اب تک کئی بار یہ تجویز پیش کی ہے کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ترکیہ اور آرمینیا کے مورخین اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن قائم کیا جائے۔

2014 میں اس وقت کے وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب ایردوان  نے 1915 کے واقعات میں جان کی بازی ہارنے والے آرمینیائی باشندوں کی  حالیہ نسلوں سے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے 21 نومبر 2024 کو غزہ میں کیے جانے والے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اس کے علاوہ، اسرائیل کو فلسطین کے خلاف اپنی جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔"

 

 

دریافت کیجیے
کراچی: دہشتگردانہ حملے میں پاک رینجرز کے 3 جوان ہلاک
امریکی افواج کے ایران میں متعدد اہداف پر تازہ حملے
روسی میزائل اور ڈرونز نے یوکرین میں نافتو گیس تنصیب کو نشانہ بنایا
آبنائے ہرمز سے 100 سے زیادہ بحری جہازوں کو نکالا گیا ہے جن میں  ترک ملکیت کے جہاز بھی ہیں
ٹرمپ کی امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروس ٹیکس عائد کرنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی
امریکہ-ایران معاہدے کے بعد پہلا تصادم: کیا معاہدے کو توڑ دیا گیا ہے؟
ونیزویلا میں ہولناک زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز  کر گئی
قزاقستان نے گیس کی پیداوار روک دی
ترکیہ امدادی ٹیمیں ونیزویلا بھیج رہا ہے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
جنوبی کوریا: ہم اپنی ڈرون اور انسدادِ ڈرون صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے
روسی وزارت دفاع: رات بھر میں 660 یوکرینی ڈرون مار گرائے گئے ہیں
ترکیہ  نے اپنے آخری گروپ میچ میں امریکہ کو 3-2 سے شکست دے دی
زیلنسکی نے روسی تنصیبات کے خلاف حملوں کا حکم دے دیا
واشنگٹن وینزویلا  کی مدد کے لیے تیار ہے: ٹرمپ