ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ -لیبیا معاہدہ،ترک دفتر خارجہ کا خیر مقدم
دفترِ خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ  'ہم ترکیہ اور لیبیا کے درمیان سمندری دائرہ اختیار کے علاقوں کے تعین سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے لیبیا کے ایوانِ نمائندگان کی طرف سے آج منظور کیے گئے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو 2019 سے نافذ
ترکیہ -لیبیا معاہدہ،ترک دفتر خارجہ کا خیر مقدم
ترکیہ-لیبیا / َAA

ترکیہ اور لیبیا کے درمیان سمندری دائرہ اختیار کے علاقوں کے تعین سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں لیبیا کے ایوانِ نمائندگان کے فیصلے کا  ترکیہ نے خیرمقدم کیا ہے۔

دفترِ خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ  'ہم ترکیہ اور لیبیا کے درمیان سمندری دائرہ اختیار کے علاقوں کے تعین سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے لیبیا کے ایوانِ نمائندگان کی طرف سے آج منظور کیے گئے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو 2019 سے نافذ العمل ہے۔'

وزارت نے کہا کہ یہ مفاہمت کی یادداشت، جو بین الاقوامی قانون اور مساوات کے اصولوں پر مبنی ہے، دونوں ممالک کے باہمی حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتی ہے اور تعاون کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکیہ بین الاقوامی قانون کے احترام کے اپنے عزم کے مطابق، بحیرہ روم کے خطے میں اعتماد، استحکام اور امن کو فروغ دینے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھے گا۔

 

27 نومبر 2019 کو ترکیہ اور لیبیا کی اس وقت کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ 'حکومتِ قومی وفاق' نے بحیرہ روم میں اپنے اپنے سمندری دائرہ اختیار کے علاقوں کی حد بندی کرنے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔

اس معاہدے نے انقرہ کے بین الاقوامی سمندری قانون کے اپنے مفہوم کی بنیاد پر دونوں ممالک کے درمیان سمندری سرحد قائم کی۔

ترکیہ کا مؤقف ہے کہ اس کا وسیع ساحل بحیرہ روم میں اسے ایسے سمندری دائرہ اختیار کا حقدار بناتا ہے جس پر ترکیہ کے کے قریب واقع یونانی جزائر کی وجہ سے غیر متناسب پابندی نہیں ہونی چاہیے۔

مشرق میں قائم ایوانِ نمائندگان نے اس سمندری معاہدے کی مخالفت کی تھی اور پارلیمانی منظوری کے بغیر طرابلس حکومت کے اس معاہدے کو انجام دینے کے اختیار پر سوال اٹھایا تھا۔

وہ مخالفت تنازع کا ایک بڑا نکتہ بن گئی، جس سے ناقدین کو یہ دلیل دینے کا موقع ملا کہ اس معاہدے کو لیبیا میں ضروری داخلی سیاسی توثیق حاصل نہیں تھی۔

چنانچہ، پارلیمان کا حالیہ فیصلہ ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جو لیبیا کے حریف سیاسی اور فوجی حکام کے ساتھ کام کرنے کے تعلقات قائم کرنے کے لیے ترکیہ کی برسوں کی سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے، لیبیا نے پے در پے تنازعات، حریف حکومتوں اور سیاسی اتھارٹی کے متوازی مراکز کا سامنا کیا ہے۔"

 

دریافت کیجیے
پوٹن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
ہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
سوڈان: بس اسٹاپ پر ڈرون حملہ، 80 افراد ہلاک
یورپ کی بد امنی میں روس کا ہاتھ،کریملن نے مضحکہ خیز قرار دے دیا
یمنی میڈیا: حوثیوں کے یمن میں فوج تربیتیی کیمپ پر حملے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے
یورپی سفارت کاروں پر حملے،یورپی یونین اور کینیڈا کی مذمت
تھائی لینڈ میں تیز بارشوں سے آنے والے سیلاب میں ایک مہینے میں 80 افراد ہلاک ہوگئے
کینیڈا میں فوجی اڈے میں دھماکے پر ترکیہ کا اظہارِ تعزیت
ایرانی وزیر خارجہ عراقچی: "نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے"
کیف میٹرو اسٹیشن پر روسی فضائی حملہ، ایک عورت ہلاک
کریملن کی تجویز: روس۔امریکہ۔چین اجلاس ضروری ہے
غزہ : 75 فلسطینیوں کی باقیات ملبے سے نکالی گئیں
فرانس: ملک بھر میں تشدد پھوٹ پڑے، لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات
کینیڈا: فوجی  اڈے پر آگ لگ گئی،ہلاکتوں کی اطلاع
مملکت پر بیلسٹک میزائلوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا:اتحادی افواج