ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ جیل جانے سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک اور جنگ میں دھکیل رہا ہے۔
عباس عراقچی نے X سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں نیتن یاہو کے ایران مخالف بیانات پر ردعمل ظاہر کیا۔
ایرانی وزیر نے کہا، " نیتن یاہو جیل جانے سے بچنے کے لیے، اسرائیل اور امریکی صدر کے لیے ممکنہ نتائج کو نظر انداز کرتے ہوئے، امریکہ کو ایک نئی جنگ میں دھکیل رہا ہے۔"
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران کو 'ختم کرنے' کے لیے کیے گئے حملوں کے باوجود ایران زیادہ مضبوط ہو کر نکلا ہے اور کہا"کیا آپ ایک بار پھر قسمت آزمانا چاہتے ہیں؟ آگے بڑھیں، آزمائیں۔ لیکن ہوشیار رہیں؛ ہمارے بھی ابھی ادھورے کام باقی ہیں۔"
دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات 'وجودی اہمیت' کے حامل ہیں، انہوں نے اپنے اعلان کردہ سیکیورٹی ضوابط میں 'ایران کے نظام کو بدلنے' کے معاملے کا ذکر کیا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کی معیشت دن بہ دن بگڑ رہی ہے، جس سے عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے اور نئے احتجاجات شروع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہمارا منصوبہ نظام کے انہدام کو یقینی بنانے کے لیے نہایت جامع اور ٹھوس اقداما ت ہے۔ یہی ہدایت میں نے تمام سکیورٹی اداروں کو دی ہے۔"





















