اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک وہ عہدے پر برقرار ہیں، غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دیں گے۔
ان کا یہ بیان یونائیٹڈ عرب لسٹ کے رہنما منصور عباس کے جواب میں سامنے آیا، جنہوں نے کہا تھا کہ فلسطین پہلے ہی ایک ریاست کے طور پر موجود ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک اسے تسلیم کرتے ہیں۔
منصور عباس نے اسرائیل اور امریکہ پر بھی زور دیا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کریں۔
نیتن یاہو نے کہا، "جب تک میں وزیر اعظم ہوں، ایران کے زیرِ کنٹرول کوئی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی۔"
ہفتے کے روز عرب شہر طیبہ میں اپنی پارٹی کی جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منصور عباس نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی خواہاں ہے۔
عباس نے واشنگٹن اور تل ابیب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "فلسطین کی ریاست موجود ہے، اور دنیا اسے تسلیم کرتی ہے۔"
نیتن یاہو کے یہ بیانات 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے انتخابات سے قبل سامنے آئے ہیں، جبکہ رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے اتحادی حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔
لیکوڈ پارٹی، جس کے پاس اس وقت 32 نشستیں ہیں، حالیہ سروے رپورٹس میں تیزی سے نیچے آئی ہے، اور جمعہ کو سامنے آنے والے ایک پول میں اسے صرف 20 نشستیں ملتی دکھائی گئی ہیں۔
چینل 13 کے 19 اگست کو شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق، نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند کٹر مذہبی اتحادیوں کو مجموعی طور پر 51 نشستیں ملنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو پارلیمانی اکثریت سے 10 نشستیں کم ہے۔
















