ہسپانوی اخبار "ایل پائس" کی رپورٹ کے مطابق، اسپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوئنتے نے گزشتہ ہفتے ٹولیڈو میں تیز رفتار ٹرین کے حادثے کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 69 افراد ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہو گئے تھے۔
کانگریس کے مستقل وفد سے خطاب کرتے ہوئے پوئنتے نے کہا کہ "اسپین جیسے ملک میں، وزیرِ ٹرانسپورٹ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ہونے والے دو حادثات کے بعد اخلاقی طور پر اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتا۔" انہوں نے اپنے علیحدگی کے فیصلے کو "سیاسی غیرت کا فیصلہ" قرار دیا۔
پوئنتے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے 29 نومبر کو ہونے والے قبل از وقت عام انتخابات میں ہسپانوی سوشلسٹ ورکرز پارٹی کی جانب سے ویلاڈولیڈ سے بطور پارلیمانی امیدوار حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
موجودہ صدی میں یورپ کے مہلک ترین ٹرین حادثات میں سے ایک ہونے والے اس سانحے نے سوشلسٹ وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کی انتخابی مہم پر گہرے سیاہ بادل منڈلا دیے ہیں، جو پہلے ہی عوامی جائزوں میں پیچھے نظر آ رہے ہیں۔
28 اکتوبر کو ہونے والا یہ حادثہ میڈرڈ سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں واقع گاؤں اُرڈا کے قریب پیش آیا۔
ریاستی ریلوے کمپنی "رینفے کی ایک تیز رفتار ٹرین، نجی کمپنی "ایریو" کی زیرِ انتظام چلنے والی ایک کھڑی ٹرین سے پیچھے سے ٹکرا گئی۔
سیاسی دائیں بازو کی حزبِ اختلاف کے نمائندوں اور ٹریڈ یونینوں نے وزیرِ ٹرانسپورٹ پوئنتے پر کڑی تنقید کی کیونکہ ان کا رویہ ایسا تھا جیسے وہ اس کا سارا ملبہ صرف ایک کنٹرولر پر ڈال رہے ہوں۔
دوسری جانب، 10 اور 12 نومبر کو ہڑتال کا فیصلہ کرنے والی ٹرین ڈرائیوروں کی یونین "سیماف" نے خبردار کیا ہے کہ 2021 میں مارکیٹ کے آزاد ہونےکے بعد سے کام کے حالات اور دیکھ بھال کے عمل میں ابتری آئی ہے۔
یہ ہولناک حادثہ رواں سال جنوری میں اندلس کے علاقے میں، اسی میڈرڈ-سیویل روٹ پر ہونے والے ایک اور تصادم کے بعد پیش آیا ہے جس میں 46 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔






















