بیلجیم میں ایک سپر مارکیٹ چین سے تعلق رکھنے والے متعدد اسٹورز کے کولنگ اور فریزنگ یونٹس میں درجہ حرارت اچانک بڑھ جانے کی وجہ سے مصنوعات خراب ہو گئیں، اور بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کا تعلق ممکنہ سائبر حملے سے ہو سکتا ہے۔
بیلجیم کے آر ٹی ایل (RTL) ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق، 'ڈیلہیز' کی انتظامیہ نے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 4:00 بجے اسٹور مینیجرز کو ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا جس میں انہیں کچھ اسٹورز کے کولنگ سسٹم میں درجہ حرارت کے اچانک بڑھنے کے بارے میں خبردار کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین سے وابستہ مختلف اسٹورز میں ریفریجریٹرز اور خاص طور پر فریزرز کا درجہ حرارت اچانک بڑھ کر تقریباً 15 ڈگری تک پہنچ گیا۔
درجہ حرارت میں اضافے کے بعد، اسٹور مینیجرز اور ملازمین نے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے، اور کچھ کاروباری اداروں نے اپنی مصنوعات کو محفوظ رکھنے کے لیے سرد خانوں والے ٹرک منگوائے۔
بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کے معاشی اثرات ابھی سے محسوس کیے جانے لگے ہیں، اور متاثرہ اسٹورز میں سے کچھ کو کولڈ چین برقرار نہ رہنے کی وجہ سے ریفریجریٹرز اور فریزرز میں موجود تمام مصنوعات کو پھینکنا پڑا۔
جہاں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خاص طور پر تازہ اور منجمد اشیائے خوردو نوش کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیلہیز گروپ کے کولنگ سسٹم کے ذمہ دار شعبے نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
اگرچہ واقعے کی وجہ کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے، لیکن سائبر حملے کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 12 اکتوبر کو فرانس میں مشہور مارکیٹ چینز پر ہونے والے سائبر حملے کے باعث کئی مارکیٹوں کے ریفریجریٹرز میں موجود مصنوعات کو کولڈ چین ٹوٹنے کی وجہ سے تلف کر دیا گیا تھا۔





















