ایف بی آئی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 29 اکتوبر کو ہونے والی چوری کے پیچھے شمالی کوریا کا ہاتھ تھا، اور یہ سائبر سرگرمی 'ٹریڈر ٹریٹر' نامی ایک گروپ سے منسلک ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آئی، امریکی خفیہ سروس اور انٹرنل ریونیو سروس کے کرمنل انویسٹی گیشن یونٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جس کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے چوری شدہ اثاثوں کو بنیادی طور پر ایتھیریم میں تبدیل کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چوری شدہ اثاثوں کو منی لانڈرنگ کے اگلے مراحل کی تیاری کے لیے ڈی سینٹرلائزڈ فنانس پلیٹ فارمز اور فوری تبادلے کی خدمات کے ذریعے تبدیل کر کے لانڈر کیے جانے کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کرپٹو کرنسی ایڈریسز کو بھی شیئر کیا گیا ہے جو اس چوری سے منسلک اثاثے رکھے ہوئے ہیں یا ماضی میں رکھ چکے ہیں، اور جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں شمالی کوریا سے منسلک 'ٹریڈر ٹریٹر' کے کارندے چلا رہے ہیں یا ان سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔
ایف بی آئی نے کرپٹو کرنسی کے شعبے کے نجی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹریڈر ٹریٹر سے منسلک ایڈریسز کے ذریعے کی جانے والی یا ان ایڈریسز سے شروع ہونے والی ٹرانزیکشنز (لین دین) کو روکیں۔
دوسری جانب، بائننس نے اعلان کیا تھا کہ وہ کسی ممکنہ سیکیورٹی مسئلے سے متعلق رپورٹس کی تحقیقات کر رہا ہے اور صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔
کمپنی نے بعد میں اطلاع دی کہ سیکیورٹی کی اس خلاف ورزی کا تخمینی حجم 6.3 ارب ڈالر تھا، اور تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔"



















