ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان کا ترک دنیا کے لئے تحریر کردہ کالم ترک ریاستوں کے ذرائع ابلاغ میں بیک وقت شائع کیا گیا ہے۔
صدر اردوعان کا ترک ریاستوں کی تنظیم (OTS) کے 13ویں سربراہی اجلاس کے لئے تحریر کردہ مضمون، تنظیم کے رکن اور مبصر ممالک کے معروف ذرائع ابلاغ میں شائع ہوا ہے۔ ’’ترک دنیا کی صدی: یکجہتی سے اتحاد تک‘‘ کے عنوان سے لکھا گیا یہ مضمون آذربائیجان، قزاقستان، کرغزستان، ازبکستان، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ (TRNC)، ترکمانستان اور ہنگری میں ایک ہی روز شائع کیا گیا ہے۔
انقرہ میں منعقدہ سربراہی اجلاس سے قبل شائع ہونے والے اس مضمون کا آغاز صدر اردوعان نے ان الفاظ سے کیا ہے"ترک دنیا کا اتحاد ہماری مشترکہ تاریخ سے ورثے میں ملنے والی دیرینہ میراث اور ہمارے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے عزم کا سب سے مضبوط مظہر ہے"۔
اس کے بعد دیئے گئے اہم پیغامات میں صدر اردوان نے کہا ہے کہ:
’’صدیوں کے دوران مختلف جغرافیائی خطوں میں متعدد آزمائشوں سے گزرنے والی ہماری برادر اقوام کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے قلبی رشتے آج ترک ریاستوں کی تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہماری سیاسی، انسانی، اقتصادی اور ثقافتی یکجہتی کی مضبوط بنیادیں تشکیل دے رہے ہیں۔ ترک دنیا کی عظیم صلاحیتوں کو مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے بروئے کار لانا، ٹھوس کامیابیوں کے ذریعے اپنے اتحاد کو مزید مستحکم کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط ترک دنیا چھوڑنا ہم سب کی تاریخی ذمہ داری ہے۔‘‘
انہوں نے انقرہ سربراہی اجلاس کی اہمیت اور ترکیہ کی جانب سے تنظیم کی آئندہ صدارت سنبھالنے کی طرف بھی توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہاہے کہ
’’میں ترک ریاستوں کی تنظیم کے 13ویں سربراہی اجلاس کو، جو ہم انقرہ میں ’ترک صدی: زبان، فکر اور عمل میں اتحاد‘ کے موضوع کے تحت منعقد کریں گے، ایک ایسی اہم ملاقات سمجھتا ہوں جس سے ہمارے اس مشترکہ عزم کو مزید تقویت ملے گی۔ اس اجلاس کے ساتھ ہی برادر آذربائیجان سے تنظیم کی صدارت سنبھالنے کو میں ترک دنیا کے مشترکہ اہداف کے حصول اور ہماری تنظیم کی ادارہ جاتی قوت میں اضافے کے حوالے سے ایک تاریخی ذمہ داری تصور کرتا ہوں۔‘‘
صدر اردوان نے کہا ہے کہ اسماعیل غاسپراِنسکی کی چھوڑی ہوئی فکرِ اتحاد آج ترک ریاستوں کی تنظیم کی سرگرمیوں کے لیے رہنمائی کا ماخذ ہے۔یہ تنظیم کہ جس کی بنیاد ناہچیوان میں رکھی گئی اپنی مشترکہ تاریخ و ثقافت سے حاصل کردہ قوت کے باعث ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مؤثر ادارہ بنتی جا رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا ہےکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی مضبوط تنظیموں کے ذریعے برادرانہ تعلقات کو مستحکم کر کے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جائے اور مشترکہ عزم کو منصوبوں کے ذریعے دیرپا کامیابیوں میں تبدیل کیا جائے۔
’’ترک ریاستوں کے درمیان یکجہتی ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے‘‘
عالمی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں اور ترک ریاستوں کے درمیان یکجہتی کی اہمیت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے صدر اردوعان نے کہا ہے کہ:
’’عالمی سیاست ایک بنیادی تبدیلی کے دَور سے گزر رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب بین الاقوامی نظام انصاف اور اعتماد کے قیام میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور جنگیں و بحران وسیع جغرافیائی خطوں کو متاثر کر رہے ہیں، ترک ریاستوں کے درمیان یکجہتی ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔ مشترکہ عزم کے گرد متحد ہونے والی ترک ریاستیں سخت ترین آزمائشوں پر قابو پانے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ترک دنیا کے اتحاد کی بنیاد ہر برادر ملک کی خودمختاری، آزادی اور قومی ارادے کے احترام پر قائم ہے۔ یہ اتحاد مشترکہ اقدار کے ساتھ ساتھ باہمی اعتماد اور مفادات کی بنیاد پر بھی استوار ہوگا۔‘‘
’’ترک دنیا کا اقتصادی انضمام ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے‘‘
اپنے مضمون میں ترک دنیا کے اقتصادی انضمام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر اردوعان نے بحیرۂ قزوین 'کیسپین'سے گزرنے والے مشرقی۔مغربی درمیانی راہداری 'مڈل کوریڈور'کے مواقع کی جانب اشارہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ’’ترک دنیا کا اقتصادی انضمام ان اولین ترجیحات میں شامل ہے جن پر ہماری تنظیم کو آنے والے دور میں خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بحیرۂ قزوین سے گزرنے والی مشرقی۔مغربی درمیانی راہداری اس حوالے سے ایک تاریخی موقع فراہم کرتی ہے۔ آج جب ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت نئی شکل اختیار کر رہی ہے، ترک جغرافیائی خطے کو عالمی نقل و حمل اور لاجسٹکس کے اہم مراکز میں سے ایک بننے کا موقع حاصل ہے۔ ہم اپنے ریلوے نیٹ ورکوں، بندرگاہوں، شاہراہوں کے رابطوں اور کسٹم نظام کو ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے مربوط نظام کے طور پر ترقی دے رہے ہیں۔ بحیرۂ قزوین کے دونوں کناروں کو ملانے والی ہر سرمایہ کاری برادر ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دے گی اور ہماری مشترکہ خوشحالی میں اضافہ کرے گی۔
’’اس مقصد کے لیے ہم ترک سرمایہ کاری فنڈ کو مزید مؤثر انداز میں استعمال کریں گے، اپنے ممالک کے درمیان تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو باہمی تعاون سے دور کریں گے اور پیداوار و سرمایہ کاری کے شعبوں میں ایک دوسرے کی طاقت میں اضافہ کریں گے۔ ہم اپنے وسائلِ توانائی، قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کو مشترکہ اہداف کے مطابق بہترین انداز میں بروئے کار لائیں گے۔ ترک دنیا کے تمام خطوں میں موجود مواقع کو ایک ہی سمت میں متحرک کرتے ہوئے پیداوار، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مل کر مزید آگے بڑھائیں گے۔‘‘
صدر اردوعان نے کہا ہے کہ اقتصادی شعبے میں قائم ہونے والی یکجہتی کو سلامتی کے میدان میں بھی عزم کے ساتھ جاری رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی، سرحد پار جرائم، سائبر خطرات اور قدرتی آفات کے خلاف دستیاب وسائل کو یکجا کرکے مشترکہ کارروائی کی صلاحیت کو فروغ دیا جائے گا۔
اردوعان نے دفاعی صنعت کے شعبے میں تجربات کے تبادلے اور مقامی و قومی ٹیکنالوجیوں کی ترقی کے ذریعے مشترکہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔
’’ہمارے اتحاد کا سب سے قیمتی سہارا ہماری مشترکہ تہذیبی آگاہی ہے‘‘
ترک دنیا کے مشترکہ تاریخی و ثقافتی ورثے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے صدر اردوعان نے کہا ہے کہ:
’’ہمارے اتحاد کا سب سے قیمتی سہارا ہماری مشترکہ تہذیبی آگاہی ہے۔ خواجہ احمد یسوی کی حکمت، علی شیر نوائی کا کلام، نظامی گنجوی کی دانش، مختوم قلی فراقی کے اشعار، یونس ایمرے کی زبانِ دل اور چنگیز ایتماتوف کا قلم، ایک ہی عظیم تہذیب کی اس وسعت اور ثروت کی علامتیں ہیں جو جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہو کر مستقبل کی راہیں روشن کرتی ہیں۔‘‘



















