امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر لگائی گئی امیگرینٹ ویزے پر پابندی ختم کر دی گئی۔
امریکی وزارت خارجہ نے جنوری میں برازیل، کولمبیا، مصر، ہیٹی، سومالیہ اور روس سمیت تقریباً 40 ممالک کے شہریوں کو امیگرنٹ ویزے جاری کرنے کو معطل کر دیا تھا۔ انتظامیہ نے اس اقدام کا اطلاق اس وجہ سے کیا کہ اس طریقے سے ایسے افراد کے داخلے کو روکا جا سکے گا جو ممکنہ طور پر عوامی امداد پر انحصار کریں۔
قوانین کے مطابق کسی امیگرنٹ کے ویزے کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کرنے کے لیے کہ وہ عوامی بوجھ بن جائے گا، قونصل خانے کے اہلکار کو فرد کی مالی حالت، عمر، صحت، صلاحیتیں اور خاندانی صورتحال کو علیحدہ علیحدہ جانچنا ضروری ہے۔
جج وارگاس نے کہا کہ قونصل خانے کے اہلکاروں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ خود کفیل سطح کے افراد کے ویزے بھی، محض اُن کے وطنِ پیدائش کی بنیاد پر مسترد کر دیے جائیں۔
فیصلے میں زور دیا گیا کہ یہ پالیسی 1965 کے قومی بنیاد پر تفریق بازی کے خلاف قانون کے برخلاف ہے اور اس سے وزِیرِ خارجہ کی جانب سے قونصل خانے کے اہلکاروں کے انفرادی فیصلوں میں مداخلت کو روکنے والی قانونی شقکی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
مذکورہ ویزا پابندی ان لوگوں پر لاگو تھی جو فیملی ری یونن یا ملازمت کی پیشکش کی بنیاد پر مستقل رہائشی اجازت نامے کی درخواست دے رہے تھے، جبکہ سیاحتی اور تعلیمی مقاصد وغیرہ جیسے غیر امیگرنٹ ویزے اس میں شامل نہیں تھے۔ چونکہ دیگر قانونی بنیادوں پر مسترد کیے گئے ویزے اپنی نوعیت برقرار ہیں، اس لیے یہ ابھی واضح نہیں کہ اس فیصلے سےکتنے افراد متاثر ہوں گے۔
سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں تقرری ہونے والے جج وارگاس نے فریقین کو کیس کے باقی حصّے کے لیے حل تجاویز پیش کرنے کے لیے 11 ستمبر تک کا وقت دیا ہے ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے پاس اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق موجود ہے۔





















