اسرائیلی اپوزیشن سیاست دانوں نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے بعد، جن میں ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو مزید اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔
امریکی انتخابات کے نتائج کا نیتن یاہو اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے تناظر میں جائزہ لیتے ہوئے اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امریکہ میں یہ حمایت اب انتخابات میں ہارنے کی وجہ بن چکی ہے۔
اپوزیشن کی جماعت "ٹوگیدر لسٹ کے رہنماؤں میں سے ایک اور اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم یائر لاپید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکہ میں انتخابی نتائج کے بعد نیتن یاہو کے ساتھ متحدہ حکومت کا امکان اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
لاپید نے مزید کہا کہ اسرائیل انہیں وزیرِ اعظم رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یہ ہماری سلامتی اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہمیں تباہ کر دیتا ہے۔
ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائر گولان نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ "امریکہ کے وسط مدتی انتخابی نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کی نظر میں کتنی نقصان دہ شخصیت بن چکے ہیں۔"
گولان نے کہا کہ ان کے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے اور انہیں ایک متبادل حکومت قائم کرنی چاہیے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرقیادت ریپبلکن پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔






















