فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران کم از کم 13 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
فلسطینی اسیران کے ذرائع ابلاغ دفتر اور مقامی ذرائع نےکہا ہے کہ گرفتار کئے جانے والوں میں تین بھائی بھی شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا ہےکہ طبی امداد فراہم کرنے والے اور یہودی آبادکاری کے مخالف رضاکار 'بشار القریوطی' کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کی انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسرائیلی فوجیں الخلیل میں مسلسل سات روز سے چھاپوں اور ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے قدیم شہر کے اطراف میں نصب لوہے کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔ قابض فوج نے جلدا اور عین دیر بہا کے محلّوں میں فوجی بیرکوں کے طور پر استعمال کی خاطر فلسطینیوں کے گھروں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
الخلیل میونسپلٹی نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ان چھاپوں کے نتیجے میں تقریباً 5 ہزار فلسطینی یعنی 780 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
یہ کارروائی جمعے کے روز ہونے والے ایک حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں دو فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا تھا۔
فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعے سے بدھ کے درمیان 110 فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے سلفیت میں دو فلسطینیوں کے مکانات مسمار کر دیئےاور دیر بلوط قصبے میں زمین پر بلڈوزر پھیر دیئے ہیں۔
میونسپلٹی کے عہدیدار جہاد یاسین نے انادولو ایجنسی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غیر قانونی تعمیرات کا جواز پیش کرتے ہوئے بلڈوزروں کے ذریعے پانی کی پائپ لائنیں بھی تباہ کر دی ہیں۔
جہاد یاسین کے اندازے کے مطابق، قصبے میں تقریباً 100 مکانات اور عمارتوں کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔





















