ایران نے ہمسایہ ممالک کو واشنگٹن کی جانب سے شروع کی گئی "معاشی جنگ" میں شامل نہ ہونے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعاون کیا تو وہ خطے میں ان ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائے گا اور خلیج فارس سے تیل کی برآمدات کو روک دے گا۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن 'آئی آر آئی بی' (IRIB) کی رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے جنرل سیکرٹری محسن رضائی نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا، "ہم تمام ہمسایہ ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی معاشی جنگ میں حصہ نہ لیں، ورنہ ہم انہیں دشمن تصور کریں گے۔"
رضائی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا مقصد جنگ کو پھیلانا نہیں ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا، کہ اگر ایران کے ارد گرد کے ممالک اس معاشی جنگ میں امریکیوں کا ساتھ دیں گے، تو ہم ان کے مفادات پر بھی ضرب لگائیں گے۔"
ہمسایہ ممالک کی جانب سے امریکی مہم کی حمایت کی صورت میں سخت اقدامات کا انتباہ دیتے ہوئے رضائی نے کہا، "خلیج یا آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران خلیج سے تیل برآمد کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دیگر متبادل راستوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
رضائی نے کہا کہ خلیج کی پچاس فیصد سے زیادہ ساحلی پٹی ایران کی ہے، اس لیے آبنائے ہرمز کا انتظام تہران کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران مغربی ایشیا میں جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے اور ان کا ملک "دنیا بھر کے جنگ پسند عناصر کے سامنے کھڑا ہے۔"
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ نے فروری میں شروع ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے، جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم، اس مفاہمت نامے کے نفاذ اور عالمی تیل و گیس کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات پر اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔
















