وال سٹریٹ جرنل کی بدھ کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نجی طور پر ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے پر غور کر رہے ہیں جبکہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں افواج کی تعیناتی کو خاموشی سے طول دے رہا ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ معاونین کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ کیا ایران جنگ ختم کی جائے اور مبینہ طور پر یہ صدر کی ذاتی ترجیح ہے۔
ٹرمپ کا ماننا ہے کہ شدید اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھنے سے بالآخر تہران مجبور ہو جائے گا کہ وہ یا تو اپنا جوہری پروگرام ختم کرے یا پھر تباہی کی طرف چلا جائے۔
امریکہ نے گزشتہ ہفتے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ شروع کیا ہے، جس میں ایران کی معیشت کے اہم ذرائع بشمول پٹرولیم، بحری جہاز رانی، ہوا بازی، سونا، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب ،پینٹاگون تقرریوں کی مدت میں توسیع کر رہا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ جنگ اگلے سال کے اواخر تک جاری رہ سکتی ہے۔
صدر کو آپریشنل لچک فراہم کرنے کے مقصد سے عسکری قوت کے طور پر دو طیارہ بردار بحری جہازوں اور 13 گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہازوں سمیت 50,000 فوجی اور 19 جنگی جہازوں کی تعیناتی کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔



















