ایشیا
1 منٹ پڑھنے
"اقدام بغاوت"جنوبی کوریا کے سابق وزیراعظم کو 23 سال قیدکی سزا
جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے معزول صدر یون سک-یول کی انتظامیہ کے دوران مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے جرم میں سابق وزیراعظم ہان ڈک-سو کو 23 سال قید کی سزا سنائی ہے
"اقدام بغاوت"جنوبی کوریا کے سابق وزیراعظم کو 23 سال قیدکی سزا
جنوبی کوریا / Reuters
21 جنوری 2026

جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے معزول صدر یون سک-یول کی انتظامیہ کے دوران مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے جرم میں سابق وزیراعظم ہان ڈک-سو کو 23 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

یانہاپ نیوز کے مطابق، سول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے یہ سزا سنائی اور یہ پہلا فیصلہ ہے جس نے 3 دسمبر 2024 کے مارشل لا اعلان کو بغاوت قرار دیا ہے ۔

76 سالہ ہان ڈک سو یون کے  دور میں جنوبی کوریا کے وزیراعظم رہے، جنہیں پچھلے سال مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

یہ فیصلہ اس بات کی پہلی بار تصدیق کرتا ہے کہ مارشل لا کی کوشش کے سلسلے میں یون کی کابینہ کے کسی رکن کو سزا سنائی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے یون کو بھی  حراست میں لینے کی تفتیشی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مارشل لا کیس کی تفتیش کرنے والے ایک خصوصی  استغاثہ نے بغاوت کے الزامات کے تحت یون کے لیے سزائے  موت کا مطالبہ کیا ہے۔

 اس  مقدمے  پر عدالتی فیصلہ 19 فروری کو متوقع ہے۔

 

دریافت کیجیے
سعودی عرب: امریکہ ہُرمز سے ناکہ اٹھائے
چین اور ہسپانیہ، منتشر ہوتے عالمی نظام کے مقابل، مضبوط باہمی تعلقات کی تلاش میں
امریکی پابندیوں میں شامل چینی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا
ہم پر حملوں میں ملوث 5 عرب ریاستیں معاوضہ ادا کریں:ایران
"ایندھن کا بحران" برقی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ
مقبوضہ مغربی کنارے کے عملی "جزوی الحاق" کو روکا جائے: میرز
اسلام آباد میں جوہری مول تول: امریکہ کا مطالبہ 20 سال ایران کی پیشکش 5 سال
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں