دنیا
3 منٹ پڑھنے
ایتھوپیا: حملوں میں کم از کم 60 آرتھوڈوکس عیسائی ہلاک
ایتھوپیا کے علاقے اورومیا  میں 20 اور 24 اکتوبر کو ہونے والے الگ الگ حملوں میں کم از کم 60 آرتھوڈوکس عیسائی ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ 20 سے زائد افراد شدید زخمی اور 20 مکانات کو جلا دیا گیا ہے
ایتھوپیا: حملوں میں کم از کم 60 آرتھوڈوکس عیسائی ہلاک
ایتھوپیا / Reuters

ایتھوپیا کے علاقے اورومیا  میں 20 اور 24 اکتوبر کو ہونے والے الگ الگ حملوں میں کم از کم 60 آرتھوڈوکس عیسائی ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ 20 سے زائد افراد شدید زخمی اور 20 مکانات کو جلا دیا گیا ہے۔ یہ معلومات چرچ کے حکام نے پیر کی رات دیر گئے ایک بیان میں فراہم کیں۔

ایتھوپیا کے آرتھوڈوکس تیواہیدو چرچ کی ہولی سینڈ  نے کہا  کہ ہم نے ڈائیسیز آفس کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کو گہرے دکھ کے ساتھ سنا ہے۔

چرچ نے ان ہلاکتوں کو ہمارے شہریوں پر ڈھایا جانے والا انتہائی افسوسناک ظلم اور تشدد قرار دیا ہے۔

چرچ کے مطابق، 20 اکتوبر کو مرتی  ضلع کے انگاڈا کیبیلے کے علاقے گورا سیلینگو میں 14 افراد ہلاک کیے گئے، جبکہ 24 اکتوبر کو شِرکا  ضلع کے علاقوں تریتہ، چولے اور بیربو میں مزید 46 افراد کو ہلاک کیا گیا۔ یہ دونوں اضلاع وسطی ایتھوپیا کے اورومیا ریجن کے ارسی زون  میں واقع ہیں۔

ہولی سینڈ نے ان ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تشدد جان و مال کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ایتھوپیا میں مختلف مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی روایات کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

 چرچ نے سرکاری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی سطح پر ان حملوں کی مذمت کریں، شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

چرچ نے سیکورٹی ایجنسیوں پر بھی زور دیا کہ وہ متاثرہ برادریوں کو اضافی تحفظ فراہم کریں اور مزید تشدد کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔ دوسری طرف، اورومیا کی علاقائی حکومت نے ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کا تعاقب کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک مقامی اہلکار نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملے ایک نئے بنے ہوئے باغی اتحاد نے کیے ہیں جس میں اورومو لبریشن آرمی  بھی شامل ہے۔ تاہم، OLA نے ماضی میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

یہ ہلاکتیں اورومیا میں جاری بدامنی کے دوران ہوئی ہیں، جو ایتھوپیا کی سب سے بڑی علاقائی ریاست ہے، جہاں سرکاری افواج برسوں سے مسلح گروپوں سے برسرِپیکار ہیں۔

جولائی میں ایتھوپیا کے انسانی حقوق کے کمیشن نے رپورٹ کیا تھا کہ 2021/2022 سے لے کر یکم جون کے درمیان مشرقی ارسی میں ہونے والے ٹارگٹڈ حملوں میں کم از کم 432 شہری اور چار مقامی ملیشیا کے ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہولی سینڈ نے کہا ہے کہ وہ اس سیکورٹی بحران پر قابو پانے کے لیے اعلیٰ سرکاری حکام کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ چرچ نے متاثرین کے لیے دعائیہ تقاریب کا بھی اعلان کیا ہے اور دنیا بھر کے آرتھوڈوکس چرچوں اور خانقاہوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خصوصی دعائیں کریں۔

 چرچ نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کے پیروکار بغیر کسی خوف کے زندگی گزار   سکیں اور عبادت کر سکیں۔

  

دریافت کیجیے
ازبکستان نے ایرانی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا
اسرائیل نے ’’نسلی صفائی‘‘ پالیسی کو الخلیل تک پھیلا دیا ہے
اٹلی اور اسپین میں احتجاجی مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
نائیجیریا: مسلح حملہ، 20 افراد ہلاک
اسرائیل میں ہزاروں افراد کی شرکت سے احتجاجی مظاہرہ
ایران پر حملہ 'کل' ہی ہو سکتا ہے: ٹرمپ
امریکہ: مسلّح حملے میں 12 افراد زخمی ہو گئے
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
چار فلپائنی فضائیہ کے پائلٹ تربیتی مشق کے دوران فضاء میں تصادم کے نتیجے میں ہلاک
ترکیہ نے اردن میں چرچ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی
اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور اسرائیلی بندشوں پر تشویش
وزیر فیدان: علاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے  کاسلسلہ جاری رکھے گا
تائیوان میں طوفان چیمپی کے باعث 1,46,000 سے زائد گھروں کی بجلی منقطع: رپورٹ
روس: ہم نے یوکرین میں ایک بندرگاہ اور سفر کرنے والے کارگو جہاز کو نشانہ بنایا ہے
ترک خاتون اول امینہ ایردوان نے امام بخاری کے مزار پر حاضری دی