اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے یوکرین مسلّح افواج کے زیرِ استعمال فوجی معیار کی اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کردی ہے۔
روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل کی خبر کے مطابق ایلون مسک نے یوکرینی افواج کے زیرِ استعمال فوجی معیار کی اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس اقدام سے کیف میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ٹرمپ انتظامیہ بھی الجھن کا شکار ہوگئی ہے۔
معاملے سے واقف امریکی حکام کی وال اسٹریٹ جرنل کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کی رفتار محدود ہونےکے نتیجے میں ملک کے بعض عسکری ڈرون عملی طور پر ناکارہ ہوگئے ہیں۔
خبر کےذرائع کے مطابق مسک اور ٹرمپ نے رفتار محدود کرنے کے فیصلے کے منظرِ عام پر آنے سے پہلے اور بعد میں اس معاملے پر بات چیت کی تاہم ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے خود ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔
رفتار محدود کرنے کے فیصلے کی خبر سامنے آنے سے چند گھنٹے بعد مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’رفتار یا استعمال سے متعلق ہر قسم کی پابندی کا تعین امریکی فوج اور بالآخر امریکی صدر کرتے ہیں۔‘‘
اس کے باوجود، ٹرمپ نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ اسٹارلنک کی رفتار سست کرنے کا ذمہ دار کون ہے۔میں اس بارے میں جاننا چاہوں گا۔‘‘
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ’’ہم نے کوئی پابندی عائد نہیں کی۔اسٹارلنک کو اپنی سروس کی شرائط سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔‘‘
’’مسک نے یک طرفہ کارروائی کی‘‘
اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کیے جانے کے بعد یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر بغیر کسی پابندی کے سروس بحال نہ کی گئی تو یوکرینی شہریوں کا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔
امریکی حکام میں سے بعض نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ’’مسک نے یک طرفہ طور پر کارروائی کی اور ٹرمپ نے یوکرین کے خلاف جوابی کارروائی کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔‘‘
یوکرین میدانِ جنگ میں مواصلاتی رابطوں، درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے حملوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں کے لیے اسٹارلنک کی فوجی معیار کی سیٹلائٹ سروس 'اسٹارشیلڈ' استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسپیس ایکس کے عام شہریوں کے استعمال کے لیے فراہم کردہ اسٹارلنک سیٹلائٹ نظام سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔
واشنگٹن اور کیف کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں میں مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ، زیلنسکی کے روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے اور روس سے عالمی منڈیوں تک ڈیزل ایندھن کی زیادہ مقدار پہنچانے کی راہ ہموار کرنے والے، معاہدے پر تنقید کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایلون مسک اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، دونوں نے حالیہ ہفتوں میں روس میں ڈیزل ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں پر بھی ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ ان حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔




















