ایران نے کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے آبنائے ہرمز میں، ایران کے جزیرۂ لارک کے جنوب میں ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 'چند ایرانی شہری' ہلاک ہوگئے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری 'فارس خبر ایجنسی' نے منگل کے روز شائع کردہ خبر میں کہا ہے امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے ایران کے جزیرہ لارک میں ایرانی جہازوں پر حملے کئے ہیں۔ایجنسی نے ہلاکتوں کی درست تعداد نہیں بتائی تاہم بعض ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق ان حملوں میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ خبریں ایسے وقت پر سامنے آ رہی ہیں کہ جب جنگ بندی برقرار ہے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ فریقین معاہدے کی نوعیت پر اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں لہٰذا جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ چند دن میں حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی 'مارکو روبیو' نے نئی دہلی جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ "میرے خیال میں ابتدائی مسودے کی نوعیت کے بارے میں مضبوط ہم آہنگی اور اتفاق موجود ہے۔ تاہم، ایسے معاملات میں ہر چیز پر اتفاق کرنے میں چند دن لگ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہاتفاقِ رائے محض کسی ایک لفظ یا جملے پر اختلاف تک کی سطح پر آ سکتا ہے"۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ "اگر کوئی معاہدہ ہونا ہے تو ہمیں اس پر مزید کام کرنا ہوگا۔لیکن جو بھی معاہدہ ہوایا تو ایک اچھا معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا"۔
روبیو نے آبنائے ہرمز کو تجارتی آمدورفت کے لیے بند کرنے کی کوششوں پر تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا ہےکہ یہ 'غیر قانونی، ناجائز اور ناقابلِ عمل' اقدام ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ایرانی حکومت کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک گزرگاہ پر فیس لینے کے نظام کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ ناقابلِ قبول ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ آبنائے کا کھلا، بلا رکاوٹ اور بلا معاوضہ ہونا ضروری ہے اور یہی ہونا بھی چاہیے"۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز 28 فروری کو ایران پر حملوں سے ہوا، جس کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز بند کر دی اور اسرائیل اور خلیج میں موجود امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنا کرجوابی کارروائیاں کیں۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا، لیکن اس کے باوجود اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے جہازوں کے لئے ناکہ بندی برقرار رکھی۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ معاہدہ 'زیادہ تر طے پا چکا ہے' اور صرف حتمی منظوری کا منتظر ہے۔








