رائے
غّزہ جنگ
8 منٹ پڑھنے
7 اکتوبر: صدمہ، المیہ اور فلسطینیوں کے آلام و مصائب کی مذّمت
غزہ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران ہزاروں بچوں کو نشوونما پانے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا، ہزاروں کنبوں کے نام آبادی کے دفتر سے مٹ گئے اور محّلوں کے محّلے ملبے کا ڈھیر بن گئے
7 اکتوبر: صدمہ، المیہ اور فلسطینیوں کے آلام و مصائب کی مذّمت
Pro-Palestinian rally marks third anniversary of October 7 attack, in Ankara

تین سال کا عرصہ ایک بچے کے بولنا اور چلنا سیکھنے اور دنیا کو دریافت کرنا شروع کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ لیکن غزہ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران ایسے بچے بھی تھے جنہیں نشوونما پانے کا موقع ملنے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا، ایسے خاندان تھے جن کے نام آبادی کے ریکارڈ سے مٹا دیے گئے اور ایسے محلّے تھے جو ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئے۔

دنیا نے 7 اکتوبر کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملے اور اسرائیل کی غزہ پر مسّلط کردہ نسل کشی جنگ کے آغاز کو تین سال مکمل ہوتے دیکھے۔

تاہم، فلسطینیوں کے لیے یہ تاریخ ان کے دکھوں کی ابتدا کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جب کئی دہائیوں سے جاری قبضے، محاصرے اور بے دخلی پالیسیوں نے غزہ کو ناقابلِ رہائش بنانے کے لیے حملوں کی ایک لہر کی شکل اختیار کر لی۔ دنیا کے ایک بڑے حصّے نے اس صورتِ حال پر خاموش تماشائی بنے رہنے کا انتخاب کیا۔

غزہ میں فلسطینی گزشتہ تین برسوں سے نہ صرف بمباری کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ انہیں ان حالات کی منظم تباہی کا بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو معاشرتی زندگی کے تسلسل کے لیے ضروری ہیں۔

گھر، اسپتال، جامعات، اسکول، نانبائی خانے، پانی کی فراہمی کے نظام، زرعی زمینیں اور عبادت گاہیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ متعدد خاندان مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے۔ آبادی کی اکثریت کو بار بار ایک ’’محفوظ علاقے‘‘ سے دوسرے علاقے میں منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں لیکن ان علاقوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ محتاط اندازوں کے مطابق 2023 سے تاحال اسرائیل 74 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چُکا ہے۔ قتل کئے گئے ان فلسطینیوں میں 21 ہزار سے زائد بچے ہیں۔

تقریباً 19 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو بارہا نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ 3 لاکھ 71 ہزار سے زائد رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل تباہ ہو گئے۔ تقریباً تمام اسکولوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور غزہ کے نصف سے زیادہ اسپتال اب خدمات فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی بینک کے مشترکہ جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں انسانی ترقی کی سطح 77 سال پیچھے چلی گئی ہے۔

تشدد صرف غزہ تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس سمیت مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اسرائیلی افواج اور غیر قانونی آبادکار،240 سے زائد بچوں سمیت 1,100 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چکے ہیں۔

فوجی چھاپوں، گھروں کی مسماری، غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور زمینوں پر قبضے کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ اس صورتِ حال نے بھی ہزاروں فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور آبائی برادریوں کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔

جب دنیا کی توجہ غزہ پر مرکوز تھی، اسرائیل نے اس موقع کو مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنے اور غیر قانونی الحاق کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

اگرچہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیلی تشدد کی مختلف شکلوں کا سامنا ہے لیکن مقصد ایک ہی ہےاور وہ یہ کہ  فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے مٹا دیا جائے۔

اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے اعلان سے بھی امن و سلامتی یقینی نہیں ہو سکی۔

اس وقت سے اب تک 1,400 سے زائد فلسطینی قتل کئے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی قابض افواج اب بھی غزہ کے تقریباً دو تہائی حصے پر قابض ہے جبکہ فلسطینی اپنی ہی سرزمین کے ایک چھوٹے اور حد سے زیادہ گنجان آباد حصے میں محصور ہیں۔

تعمیرِ نو کا کام ابھی ابتدائی مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی عائد کردہ پابندیاں، تعمیراتی سامان، طبی اشیا، صاف پانی اور ملبے کے ڈھیروں کو ہٹانے کے لیے درکار بھاری مشینری کے غزہ میں داخلے کے راستے میں، بدستور رکاوٹ بن رہی ہیں۔

ایسے جنگ بندی معاہد ے کو، جس کے تحت فلسطینیوں کا قتلِ عام، ان کی جبری بے دخلی اور انہیں تعمیرِ نو کے مواقع سے محروم رکھنے کا سلسلہ جاری رہے، امن نہیں کہا جا سکتا ۔ عالمی برادری کو، پوری رفتار سے جاری، اس تشدد کو نظرانداز کرنا زیادہ آسان محسوس ہوتا ہے۔

ان تین برسوں کے دوران فلسطینیوں کو ان کی ’’استقامت‘‘ کے باعث بارہا سراہا گیا ہے۔

اگرچہ عام طور پر یہ لفظ تحسین کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن اب اس نے ایک زیادہ پریشان کن مفہوم اختیار کر لیا ہے۔

فلسطینیوں کی استقامت کو قابلِ ستائش قرار دینے سے اکثر دنیا کو اس بات پر حیرت کا اظہار کرنے کا موقع مل جاتا ہے کہ ایک قوم کس قدر شدید تکلیف برداشت کر سکتی ہے لیکن اس سوال پر غور نہیں کیا جاتا کہ آخر اسے اب تک یہ سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور کیوں کیا جا رہا ہے۔

'استقامت اور مزاحمت ' جیسے یہ الفاظ واقعات کو سیاست سے الگ کر رہے ہیں۔

اس طرح فوجی قبضے اور نسلی امتیاز پر مبنی نظام اور نسل کشی کا سامنا کرنے والی ایک قوم کو ایسے فریق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کے ساتھ لوگ ہمدردی محسوس کرتے ہیں۔

یہ لفظ حقوق کو ضروریات میں، سیاسی ذمہ داری کو المیے میں اور ان جرائم کو، جن کے ذمہ دار اور پشت پناہی کرنے والے واضح طور پر معلوم ہیں، ایک ایسی بدبخت آفت میں تبدیل کر دیتا ہے جس کا بظاہر کوئی ذمہ دار نہیں

یہ لفظ مرکزِ توجہ کو بھی اس نظام سے ہٹا دیتا ہے جو فلسطینیوں کے دکھوں کا سبب بنتا ہے اور اسے ان تخلیقی صلاحیتوں کی طرف موڑ دیتا ہے جنہیں فلسطینی ان تکالیف سے نجات پانے کے لیے بروئے کار لاتے ہیں۔

یہ طرزِ فکر کا فائدہ ان حکومتوں کو ہوتا ہے جو تشویش کا اظہار کرنے والے بیانات تو جاری کرتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے، اس کے ساتھ تجارت کرنے اور سفارتی سطح پر اسے تحفظ دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تباہ شدہ گھروں کے قریب کھانا پکاتے یا خیموں میں بچوں کو پڑھاتے ہوئے فلسطینیوں کی تصاویر کو اس حوصلہ افزا ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ زندگی کا سلسلہ جاری ہے۔

تاہم، فلسطینیوں کی اس ہنرمندی اور صلاحیتوں کو سراہنا اس بنیادی حقیقت کو نظروں سے اوجھل کر سکتا ہے کہ ان کے گھر کبھی تباہ ہی نہیں ہونے چاہییں تھے اور ان بچوں کو ملبے کے ڈھیروں کے درمیان اور پلاسٹک کی چادروں تلے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اسکولوں میں پڑھنا چاہیے تھا۔

فلسطینی غیر معمولی حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن محض زندہ رہنے کے لیے انہیں غیر معمولی قوت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے تھا۔

7 اکتوبر اور اس کے بعد۔۔۔۔

فلسطینیوں کی غیر متزلزل مزاحمت، جسے صمود کہا جاتا ہے، محض ایسی خوش کن صفت نہیں جس کی بیرونی دنیا کے لوگ تعریف کرتے پھریں۔ یہ ایک سیاسی مؤقف ہے، جو مٹ جانے سے انکار کرتا ہے۔

ثابت قدمی کو کبھی بھی انصاف کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ زندہ رہنے کی جدوجہد ان لوگوں کو بری الذمہ نہیں ٹھہراتی جو غزہ کو بھوک اور تباہی کے حوالے کیے جانے کے دوران اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں، اسے سفارتی تحفظ دیتے یا اس کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں۔ ہمدردی سے بھرپور بیانات بھی ان سیاسی فیصلوں کو مٹا نہیں سکتے جو تین سال تک سوچے سمجھے انداز میں کیے جاتے رہے۔

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے ستمبر 2025 میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔ اب عالمی برادری یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتی کہ جرم کی نوعیت واضح نہیں۔ اس کے باوجود، جواب دہی کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ استثنا اور سزا سے بچنے کے ماحول نے جنگ بندی کے بیانات کے باوجود تباہی کا سلسلہ جاری رہنے دیا ہے۔

اس صورتِ حال کا درست جواب فلسطینیوں کی بہادری کی تعریف میں ایک اور تقریر کرنا نہیں ہے۔ درست اقدامات میں اسلحے کی پابندی اور دیگر پابندیاں عائد کرنا اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی اور فلسطینیوں کی ذیرِ قیادت تعمیرِ نو کا عمل بھی ضروری ہے۔

اس کے علاوہ، قبضے اور نسلی امتیاز پر مبنی نظام کا خاتمہ، فلسطینی پناہ گزینوں کے اپنے وطن واپسی کے حق کا تحفظ اور فلسطینیوں کو کسی دوسرے سیاسی نظام کے ان پر مسلط کیے جانے کے بجائے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع دینا بھی ضروری ہے۔

تین سال گزر جانے کے بعد بھی فلسطینی زندہ ہیں، اپنی آواز بلند کر رہے ہیں اور اپنی سرزمین کے حق اور اپنے انسانی حقوق کے دعوے سے دستبردار ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ ثابت قدمی ایک طاقتور حقیقت ہے لیکن اسے دنیا کو غفلت میں مبتلا نہیں کرنا چاہیے۔

فلسطینیوں کا زندہ رہنا اس کہانی کا حتمی نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے خلاف ایک فردِ جرم ہے جنہوں نے ایسے حالات پیدا کیے جن میں اس نوعیت کی مزاحمت ناگزیر ہو گئی۔

دریافت کیجیے
پوٹن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
ہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
سوڈان: بس اسٹاپ پر ڈرون حملہ، 80 افراد ہلاک
یورپ کی بد امنی میں روس کا ہاتھ،کریملن نے مضحکہ خیز قرار دے دیا
یمنی میڈیا: حوثیوں کے یمن میں فوج تربیتیی کیمپ پر حملے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے
یورپی سفارت کاروں پر حملے،یورپی یونین اور کینیڈا کی مذمت
تھائی لینڈ میں تیز بارشوں سے آنے والے سیلاب میں ایک مہینے میں 80 افراد ہلاک ہوگئے
کینیڈا میں فوجی اڈے میں دھماکے پر ترکیہ کا اظہارِ تعزیت
ایرانی وزیر خارجہ عراقچی: "نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے"
کیف میٹرو اسٹیشن پر روسی فضائی حملہ، ایک عورت ہلاک
کریملن کی تجویز: روس۔امریکہ۔چین اجلاس ضروری ہے
غزہ : 75 فلسطینیوں کی باقیات ملبے سے نکالی گئیں
فرانس: ملک بھر میں تشدد پھوٹ پڑے، لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات
کینیڈا: فوجی  اڈے پر آگ لگ گئی،ہلاکتوں کی اطلاع
مملکت پر بیلسٹک میزائلوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا:اتحادی افواج