ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر انتخابات کے غیر سرکاری نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:"اگر امریکی حکومت بین الاقوامی طاقت کے مراکز اور بلیک میل کرنے والوں کی خدمت کرنے کی خاطر اپنے عوام کے ارادے کو نظر انداز کرتی ہے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس شکست کے ساتھ ساتھ ایک بھیانک خواب بھی اس کا منتظر ہوگا۔
کیا یہ ضمیر کا معاملہ ہے یا اخراجات کا؟ امریکی عوام نے جنگ کو مسترد کر دیا ہے اور ہم اس پیغام کی حمایت کرتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ہونے والے نقصانات کی ایک وجہ ایران کے خلاف جاری جنگ ہو سکتی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے سینیٹ میں اکثریت کھونے اور ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس سے پیچھے رہ جانے کے بعد ٹرمپ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیا۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ناکامی کی وجہ ایران کے خلاف جاری جنگ تھی، تو انہوں نے جواب دیا:
’’ایران بھی اس کی ایک وجہ تھا۔‘‘
ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے کسی بھی قسم کے شک و شبہات کی تردید کرتے ہوئے کہا:’’میں نے وہی کیا جو درست تھا۔ اگر دوبارہ ایسا موقع آیا تو میں پھر بھی یہی کروں گا۔‘‘
امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔






















