اسرائیل سرکاری ٹیلی ویژن چینل KAN کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گولان نے کہا ہے کہ " مجھے توقع ہے کہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہماری جماعت پارلیمان میں 8 نشستیں حاصل کرلے گی۔
گولان نے انتخابی نتائج کے حوالے سے کہا ہےکہ حتمی نتائج کے بعد ’’نتن یاہو کو گھر بھیج دیا جائے گا‘‘ اور ’’اس کے ساتھ کوئی کام نہیں کیا جائے گا۔‘‘ اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماضی میں اس طرح کی کوششیں ’’بڑی ناکامی سے دوچار ہوئی تھیں۔‘‘
اسرائیل میں انتخابی نتائج کے حوالے سے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں گولان نے اعلان کیا ہےکہ وہحزبِ اختلاف اتحاد کی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کرے گا۔
گولان نے نشاندہی کی ہے کہ اپوزیشن اتحاد اور اسرائیلی شہریت رکھنے والے فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کی مجموعی نشستیں حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار تعداد سے زیادہ ہیں۔
اسں نے کہا ہے کہ’’عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ 67 نشستوں کے ساتھ اسرائیلی عوام کی اکثریت نے تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ ووٹروں کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے اور اسرائیل میں تبدیلی اور نجات کی حکومت کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ راستہ اختیار کروں، ہر طریقے سے کوشش کروں اور جو کچھ بھی ضروری ہو، وہ کروں۔‘‘
واضح رہے کہ اسرائیل میں حزبِ اختلاف کے سابق رہنما اور بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز کو نتن یاہو حکومت کی حمایت کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
گینٹز نے انتخابات سے دستبرداری کا اعلان انتخابات سے صرف 8 روز قبل کیا تھا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہو رہا تھا کہ اس کی جماعت انتخابی حد حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتی ہے۔



















