لبنان میں، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کی شدت میں کمی کے بعد، جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے آٹھ لاکھ سے زائد افراد، اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امداد 'او سی ایچ اے' کے مطابق 30 جولائی تک 821,077 شہری اپنے گھروں اور علاقوں کو واپس لوٹے گئے ہیں۔ 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد شہری اب بھی بے گھر ہیں۔ بے گھر افراد میں سے تقریباً 26 ہزار سرکاری پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔
واضح رہے کہ ایران پر امریکہ۔اسرائیل حملوں کے جواب میں حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کے بعد مارچ کے مہینے میں لبنان بھی مشرقِ وسطیٰ کی وسیع تر جنگ کا حصہ بن گیا تھا ۔
حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں اسرائیل نے بھاری فضائی و زمینی حملے شروع کر دیئے تھے۔ لبنانی حکام کے مطابق ان حملوں میں 4,300 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چُکے ہیں۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر علاقائی تنازعے کے حوالے سے ایک ابتدائی معاہدہ طے پانے کے بعدکہ جس میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل تھی امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی ایک معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں تشدد میں نمایاں کمی آئی۔
جون میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اسرائیل اور لبنان ایک فریم ورک معاہدے پر متفق ہوگئے۔معاہدے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی افواج کا جنوبی لبنان میں زیرِ قبضہ علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرنا اور لبنانی فوج کی ابتدا میں آزمائشی علاقوں میں تعیناتی شامل ہے۔
تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا تھا۔ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات لبنان کے لیے شرمندگی، ذلّت اور مسلسل رعایتوں کے سوا اور کچھ نہیں لائیں گے۔


















