ıوکرین کے محاذ سے لے کر ایرانی بیلسٹک میزائل کے خطرے تک، نیٹو کا سیکورٹی حدودربعہ کئی علاقوں میں پھیلتا جا رہا ہے — اور روز بروز زیادہ غیر متوقع بنتا جا رہا ہے۔
جب اتحادی رہنما 7–8 جولائی کو انقرہ میں ملاقات کریں گے تو وہ ایسے منظر نامے میں آئیں گے جس میں جنگوں میں تیزی آرہی ہے اور جیوپولیٹیکل دراڑیں پھیل رہی ہیں، جو عبوری اٹلانٹک اتحاد کی اسٹریٹجک ترجیحات کو رسمی ضوابط سے تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں۔
یہ سربراہی اجلاس اس وقت منعقد ہو رہا ہے جب روس کی یوکرین میں جنگ چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے، حالیہ امریکی-اسرائیلی فوجی مداخلتِ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے، اور اتحادی اپنے گھروں میں معاشی دباؤ کے باوجود دفاعی اخراجات میں اضافے کی بڑھتی ہوئی مانگ سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نیٹو اتحادی پارلیمانی رہنماؤں نے پیر کو استنبول میں ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے نیٹو پارلیمانی سمٹ کے دوران دفاعی سرمایہ کاری میں اضافے، گہری ہم آہنگی، یوکرین کے لیے مسلسل امداد اور اتحاد کی مضبوطی کا مطالبہ کیا — یہ نشست انقرہ میں ہونے والے مرکزی اجلاس سے قبل منعقد ہوئی۔
گزشتہ اجلاسوں کے برعکس جو اتحاد میں وسعت یا نیٹو کے اسٹریٹجک وژن کی نئے سرے سے تشریح پر مرکوز تھے، انقرہ سمٹ کا مرکز فیصلوں پر عمل درآمد، یعنی بڑے سیاسی عزم کو فوجی صلاحیت میں بدلنے پر مبنی ہو گا۔
اس میں دفاعی صنعتی پیداوار میں توسیع، نیٹو کی قوت مزاحمت کے طرزِ عمل کو مضبوط کرنا، یوکرین کے لیے طویل مدتی فوجی امداد فراہم کرنا اور مشرقی یورپ سے مشرقِ وسطیٰ تک تیزی سے بدلتے ہوئے سیکورٹی منظرنامے کا جواب دینا شامل ہے۔
سربراہی اجلاس سے قبل، ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ انقرہ اتحادیوں کو تجربات کے تبادلے کے لیے "مضبوط ترین پلیٹ فارم" فراہم کرے گا اور ایک ایسے " بلا شرط" سیکیورٹی نظام کا مطالبہ کیا جو بڑھتے ہوئے پیچیدہ عالمی خطرات کا جواب دے سکے۔
پیر کو جرمن چانسلر فریڈرِک مرز کے ساتھ فون کال کے دوران ایردوان نے یورپ کے دفاع کو مضبوط کرنے اور "ٹرانس اٹلانٹک بندھن" کو برقرار رکھنے کے لیے اتحادیوں کی مضبوط وابستگی کی بھی ضرورت پر زور دیا، جیسا کہ بہت سے مبصر اسے نیٹو کے ایک نئے اسٹریٹجک مرحلے میں داخلے کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔
سربراہی اجلاس سے قبل ترکیہ کا دورہ کرنے والی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے انقرہ کے اجلاس کو اتحاد کے لیے "تاریخی" لمحہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے وقت میں جب ٹرانزاٹلانٹک تعلقات پر تناؤ ہے نیٹو کو یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں دفاعی پیداوار میں اضافہ، روک تھام کو مضبوط کرنا اور "یوکرین کے لیے ہم اور کیا کر سکتے ہیں" کا جائزہ لینا شامل ہوگا، علاوہ ازیں مشترکہ فوجی صلاحیتوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی زیر غور معاملات میں شامل ہو گی۔
حکمتِ عملی سے عمل درآمد تک
ترکیہ کی قومی دفاع یونیورسٹی کے جوائنٹ وار انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر مہمت اوزقان کا کہنا ہے کہ انقرہ سمٹ نیٹو کے فروغ میں ایک سنگِ میل ثابت ہو گا۔
انہوں نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا، "انقرہ سمٹ کو بنیادی طور پر ایک عمل درآمدی سمٹ کے طور پر سمجھا جانا چاہیے نہ کہ بڑے اسٹریٹجک ازسرِ نو تعیّن کے فورم کے طور پر۔"
انہوں نے کہا، "مرکزی مسئلہ اب نئے خطرے کا تعین کرنا یا نیٹو کے اسٹریٹجک تصوّر کی نظرِ ثانی نہیں رہا۔ مسئلہ دفاعی خرچ، صنعتی پیداوار اور فوجی صلاحیت کی ترقی پر کیے گئے وعدوں کو عملی شکل دینا ہے۔"
اوزقان کے مطابق، اتحاد وہ مرحلہ طے کر رہا ہے جسے وہ اپنی دوسری پوسٹ کولڈ وار تبدیلی قرار دیتے ہیں، یعنی بیرونی خطرات کے ذریعے خود کو متعارف کروانے سے ہٹ کر ایک ایسا پائیدار دفاعی صنعتی بنیاد تعمیر کرنا جو طویل مدتی روک تھام کی حمایت کر سکے۔
برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی ماہرمیریئن ڈوریس عام طور پر اس بات سے متفق ہیں کہ اجلاس میں عمل درآمد غالب رہے گا، مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیٹو بڑے اسٹریٹجک سوالات سے بچ نہیں سکتا۔
انہوں نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا، "اس واقعے کی اہمیت شاندار بیانات میں نہیں بلکہ موجودہ صورتحال، ممکنہ مستقبل اور متعلقہ موقفوں کو نافذ کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کرنے میں ہے۔"
ان کے مطابق سمٹ کے بنیادی ایجنڈے میں روک تھام کی منصوبہ بندی، بوجھ بانٹنا، دفاعی فنڈنگ اور نیٹو کی مستقبل کی سمت کا تعین شامل ہوگا۔
"زیادہ عملی سوچ کی ضرورت ہوگی، کم گھبراہٹ اور ایک بڑا اسٹریٹجک ازسرِ نو تعین لازمی ہوگا،" ڈوریس نے یہ استدلال کرتے ہوئے مزید کہاکہ کچھ پالیسی ساز ابھی بھی بیسویں صدی کے آخر کے جیوپولیٹیکل مفروضوں میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ نئے سیکورٹی چیلنجز ابھرتے رہتے ہیں۔
دفاعی خرچ اور صنعتی صلاحیت
سمٹ کے اہم مقاصد میں سے ایک توقعاً نیٹو کے بلند حوصلہ مند نئے دفاعی سرمایہ کاری کے فریم ورک کو نافذ کرنا ہے، جس کے تحت اتحادیوں نے 2035 تک جی ڈی پی کا 5 فیصد سرمایہ کاری کے طور پر خرچ کرنے کی کوشش کرنی ہے، جس میں روایتی دفاعی اخراجات کے ساتھ بنیادی ڈھانچے، لچک اور فوجی موبلٹی پر اخراجات کو ملایا جائے گا۔
تاہم دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ اتحاد کی مستقبل کی افادیت مالی وعدوں کے مقابلے میں اس بات پر زیادہ منحصر ہوگی کہ آیا یہ سرمایہ کاری ٹھوس فوجی صلاحیت پیدا کرتی ہے یا نہیں۔
اوزقان نے کہا، "یوکرین کے لیے حمایت کی پائیداری سیاسی بیانات سے زیادہ صنعتی صلاحیت پر منحصر ہوتی جائے گی۔"
اُنہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یورپی حکومتیں مالی دباؤ، سیاسی حدود اور کیِف کی طویل امداد کے بعد عوامی تھکن کا سامنا کر رہی ہیں۔ لہٰذا نیٹو کا ردعمل دفاعی پیداوار کو ادارہ جاتی حیثیت دلا کر اور صنعتی پیداوار کو بڑھا کر فوجی امداد کو طویل مدت کے لیے قابلِ برداشت بنانا رہا ہے۔
ڈوریس بھی سکیورٹی کو محض بجٹ اہداف تک محدود کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔ "سیکیورٹی کو صرف دفاعی خرچ کے زمرے تک محدود نہیں کیا جا سکتا،" انہوں نے کہا "یہ جغرافیہ، صنعتی صلاحیت اور حقیقی خطرات کی شناخت کا بھی عکاس ہونا چاہیے۔"
یوکرین نیٹو کا تعیّن کرنے والا چیلنج ہی رہے گا
مشرقی وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کے باوجود، یوکرین اتحاد کی مرکزی اسٹریٹجک ترجیح ہی رہے گا۔
روس کی یوکرین جنگ کے چار سال سے زیادہ ہونے کے بعد، نیٹو رہنما یہ بات چیت کریں گے کہ کیف کے لیے طویل مدتی فوجی حمایت کو کیسے برقرار رکھا جائے جب کہ یورپ بھر میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔
تاہم یوکرین کے لیے حمایت برقرار رکھنا سیاسی طور پر پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ عوامی اکتاہٹ، اقتصادی پابندیاں اور یورپ میں بدلتی ہوئی ملکی سیاست نے سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا حکومتیں فوجی مدد کو مستقل طور پر جاری رکھ سکتی ہیں یا نہیں۔
اوزکان کا مؤقف ہے کہ مالی پابندیاں، اندرونی سیاسی دباؤ اور یورپ بھر میں بڑھتی عوامی بیزاری کی وجہ سے نیٹو کے لیے دفاعی پیداوار کو ادارہ جاتی شکل دینا ضروری ہوتا جا رہا ہے، نہ کہ رضاکارانہ امدادی پیکجوں پر انحصار کرنا۔
ڈوریس کے نزدیک، تاہم، ملکی سیاست یورپی حکومتوں کے لیے مزید حدود طے کر سکتی ہے۔ "طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ سے پیدا ہونے والی تھکن ہر جگہ دِکھائی دیتی ہے،" انہوں نے کہا، اور اصرار کیا کہ اگرچہ بہت سی یورپی ادارے یوکرین کی حمایت کے لیے پُرعزم ہیں، منتخب شدہ حکومتیں معاشی دباؤ کے بڑھنے کے ساتھ اندرونی مزاحمت کا سامنا کر رہی ہیں۔
لہٰذا انقرہ میں رہنماؤں کے سامنے سوال یہ نہیں ہوگا کہ کیا نیٹو یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا، بلکہ یہ ہوگا کہ کیا اتحاد اس حمایت کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کے لیے درکار صنعتی اور سیاسی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے یا نہیں۔
ایران نے نیٹو کے جنوبی رخ کو پھر توجہ کا مرکز بنا دیا
اگر یوکرین نیٹو کا تعیّن کرنے والا فوجی چیلنج ہے تو حالیہ امریکی-اسرائیلی فوجی مہمِ ایران کے خلاف اتحاد کے اسٹریٹجک ایجنڈے کو وسیع کر چکی ہے۔ جہاں روس-یوکرین جنگ نیٹو کے مشرقی رخ پر غالب ہے، وہیں مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام نے جنوبی رخ کے خطرات کو ثانوی سمجھنے کے تصور کو ختم کر دیا ہے۔
اگرچہ ایران نیٹو کے رسمی آپریشنز کے دائرہ کار سے باہر ہے، اس تنازع نے خدشات کو تیز کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام توانائی کی منڈیوں، بحری تجارتی راستوں، ہجرت، سائبر خطرات اور وسیع علاقائی کشیدگی کے خطرے کے ذریعے براہِ راست اتحاد کی سلامتی کو متاثر کرتا ہے۔
ان ممالک میں سے ایک کے طور پر جو دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم علاقوں سے منسلک ہیں اور جس نے مغربی اتحادیوں اور علاقائی قوتوں دونوں سے بات چیت جاری رکھی ہوئی ہے، ترکیہ کے لیے یہ تنازع نیٹو کے اندر اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
اوزقان نے کہا، "جنوبی رخ احتمالاً خاصی توجہ حاصل کرے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام یورپی سیکیورٹی کے خدشات سے بڑھ کر آپس میں مل رہا ہے۔ توانائی کی سلامتی، ہجرت کا دباؤ، علاقائی تناؤ اور ایران سے متعلقہ کشیدگیاں براہِ راست نیٹو ارکان کو متاثر کرتی ہیں۔"
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ واقعات آخر کار نیٹو کی بنیادی ترجیحات کو بدلنے سے زیادہ اُنہیں تکمیل فراہم کرتے ہیں۔ "سمٹ کا بنیادی موضوع پھر بھی صنعتی کاری اور روک تھام ہوگا۔ جنوبی رخ کا ایجنڈا علیحدہ علاقائی مسئلے کے طور پر کم زیرِ بحث آئے گا اور زیادہ تر اس باعث زیرِ غور آئے گا کہ نیٹو کو زیادہ مزاحمت، تیاری اور دفاعی پیداوار کی صلاحیت کی ضرورت کیوں ہے۔"
ڈوریس بھی اسی خیال کے حامی ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ نے نیٹو کے جیوپولیٹیکل حساب کتاب کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔ "مشرقی وسطیٰ کی مجموعی صورتحال بعض ممالک کو جنوبی رخ پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کر رہی ہے کیونکہ وہاں کا عدم استحکام توانائی کی منڈیوں، سمندری راستوں، کشیدگی کے خطرات، ہجرتی دباؤ، سائبر خطرات اور وسیع اسٹریٹجک غیر یقینی کے ذریعے براہِ راست نتائج پیدا کرتا ہے۔"
ان خدشات کو روس اور یوکرین پر نیٹو کی مسلسل توجہ کے ساتھ متوازن کرنا ممکنہ طور پر سمٹ کے سب سے نازک سیاسی چیلنجز میں سے ایک ہوگا۔
ترکیہ کی صنعتی قوت کے طور پر بڑھتی پہچان
سمٹ کی میزبانی ترکیہ کی نیٹو کے ابھرتے ہوئے دفاعی صنعتی ماحولیاتی نظام میں بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
صدر ایردوان نے سمٹ کے سلسلے میں زور دیا کہ اتحاد کی یکجہتی میں اتحادیوں کے درمیان دفاعی تجارت پر عائد پابندیوں کو ختم کرنا اور ترکیہ کو یورپی دفاعی اقدامات میں زیادہ مکمل طور پر شامل کرنا شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ نیٹو کا ایجنڈا یوکرین سے آگے بڑھ کر مشرقِ وسطیٰ، غزہ، ایران اور اتحاد کے جنوبی رخ کو درپیش وسیع چیلنجز کو بھی شامل کرے۔
یہ ترجیحات انقرہ کی وسیع تحریک کی عکاسی کرتی ہیں جس کا مقصد خود کو نہ صرف نیٹو کا جنوب مشرقی لنگر ثابت کرنا بلکہ ایک ناقابلِ متبادل دفاعی پیداوار کنندہ اور اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر پیش کرنا بھی ہے۔
اوزقان نے کہا، "جیسے ہی نیٹو دفاعی پیداوار، سپلائی چینز اور صنعتی مزاحمت کو ترجیح دیتا جا رہا ہے، ترکیہ کی بڑھتی ہوئی دفاعی صنعتی صلاحیت ایک اہم اثاثہ بنتی جا رہی ہے۔ اتحاد اپنے ابھرتے ہوئے صنعتی ڈھانچے میں قابلِ عمل دفاعی پیداوار کنندگان کو شامل کر رہا ہے۔"
ڈوریس سمٹ کو ترکیہ کی وسیع جیوپولیٹیکل اہمیت کی توثیق سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا "ترکیپ یورپ، بحیرہ اسود خطے، بحیرہ روم اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر ایک منفرد اہم جغرافیائی اور سیاسی مقام رکھتا ہے۔"
"یہ اتفاق نہیں ہے۔ یہ موجودہ ترک قیادت کی ایک شعوری، طویل المدتی اور محتاط حکمتِ عملی ہے، جو قومی مفاد کے مطابق متعدد اسٹریٹجک رخوں کو یکجا کرتی ہے۔ دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس نے قابلِ ذکر، تیزی سے بڑھنے والی ترقی لائی ہے۔"
یورپی کمیشن کی کالاس نے بھی ترکیہ کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا، اسے نیٹو کی دوسری بڑی افواج میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مضبوط دفاعی صنعت ہے اور یورپی سیکیورٹی اور علاقائی استحکام میں "بہت، بہت نمایاں کردار" ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ، کاکیشس اور بلیک سی خطے میں ترکیہ کے اثر و رسوخ کے باعث انقرہ کے ساتھ قریبی رابطہ لازم ہے۔
نیٹو کے اندر کوئی بحران نہیں
بیرونی سیکورٹی خطرات کے علاوہ، انقرہ سمٹ نیٹو کے اندر موجود اختلاف رائے پر بھی غور کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی بوجھ بانٹنے پر زور دینے والی تجدید کردہ ترجیح اور اتحادوں کے بارے میں زیادہ لین دین پسندانہ رویے نے یورپ کی اسٹریٹجک خود مختاری کے حوالے سے مباحثے کو دوبارہ زندہ کیا ہے، جبکہ حالیہ امریکی-اسرائیلی جنگ کے حوالے سے یورپ کے مختلف ردعمل نے نیٹو کے اندر مختلف خطرے کے ادراکات اور قومی ترجیحات کو ظاہر کیا ہے۔
اوزقان کے مطابق، اتفاقِ رائے برقرار رکھنا اب ممکنہ طور پر نیٹو کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ "نیٹو کے بعدِ سرد جنگ تجربے سے حاصل ہونے والے ایک کلیدی سبق یہ ہے کہ اتحاد کا سب سے بڑا چیلنج ہمیشہ خارجی خطرات نہیں ہوتا بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کس طرح داخلی اتفاقِ رائے کو برقرار رکھا جائے۔"
وہ کہتے ہیں کہ دفاعی صنعتی تعاون پر نیٹو کا بڑھتا ہوا زور بذاتِ خود اتحاد کے لیے ہم آہنگی کا ایک نیا بنیاد فراہم کرنے کی کوشش ہے، جو محض مشترکہ خطرات کے ادراک پر نہیں بلکہ مشترکہ اقتصادی اور صنعتی مفادات پر مبنی ہو۔
اوزقان توقع کرتے ہیں کہ ترکیہ خود کو ایک عملی توازن برقرار رکھنے والے کھلاڑی کے طور پر پیش کرے گا، جو مختلف خطوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھ سکے اور اتحاد کی یکجہتی پر زور دے۔
ڈوریس بھی اس خیال کو مسترد کرتے ہیں کہ آج کے اختلافات بے مثال ہیں۔ انہوں نے کہا "نیٹو کے اندر داخلی تعلقات کبھی مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں رہے۔"
اگرچہ ٹرمپ کی زبان ممکنہ طور پر سابقہ انتظامیہوں کے مقابلے میں زیادہ لین دین پسندانہ محسوس ہو سکتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ بنیادی اختلافات آخرکار مسابقتی قومی مفادات کی عکاسی کرتے ہیں بجائے اس کے کہ یہ نیٹو کے اندر کسی بنیادی بحران کی علامت ہوں۔
انہوں نے کہا کہ"ایرانی تنازع وہ موضوع ہے جس سے آج نیٹو میں سب سے زیادہ کشیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں،" کئی یورپی رہنما اس تنازع کے بارے میں پُر جوش نہیں ہیں۔ یہ بالآخر مخصوص کھلاڑیوں کے مفادات کا معاملہ ہے۔"
تجزیہ کاروں کے مطابق، انقرہ میں ہونے والی گفتگو دفاعی خرچ اور فوجی صلاحیتوں سے آگے بڑھے گی۔ یہ اس بات کا امتحان بھی ہوگا کہ نیٹو ایک ساتھ اپنے مشرقی اور جنوبی رخوں پر بیک وقت بحرانوں کا سامنا کرتے ہوئے سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھ سکے یا نہیں، جبکہ اپنے اراکین کے درمیان بڑھتی ہوئی متنوع قومی دلچسپیوں اور اسٹریٹجک ترجیحات کو بھی دھیان میں رکھے۔













