فرانس کے معروف فٹ بال اسٹار کیلیان ایمباپے، کمیونسٹ چین کے بانی 'ماؤ زے تنگ' کو’’آمر‘‘ کہنے کی وجہ سے 3 چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری سے محروم ہو گئے ہیں۔
مشروبات تیار کرنے والی کمپنی' ڈونگ پینگ'، دودھ کی مصنوعات کی کمپنی 'مینگ نیو' اور پنیر تیار کرنے والی کمپنی 'ملک گراؤنڈ' نے منگل کے روز جاری کردہ تقریباً یکساں بیانات میں اعلان کیا ہےکہ انہوں نے ایمباپے کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیئے ہیں۔
کمپنیوں نے کہا ہے کہ"وہ ،قومی جذبات کو مجروح کرنے والے ہر قسم کے قول و فعل‘‘ کی مخالفت کرتی ہیں"۔
اگرچہ کمپنیوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کس وجہ سے کیا ہے تاہم ان کے بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ویڈیو ایمباپے کے اس انٹرویو کی ہے جو انہوں نے فرانس کے ایک آن لائن گفتگو کے پروگرام ’’دی برج‘‘ میں شرکت سے قبل دیا تھا۔
ویڈیو میں ایمباپے سے پوچھا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں انٹرنیٹ پر پھیلنے والے لطیفوں میں سے کون سا انہیں سب سے زیادہ پسند ہے۔ اس پر ایمباپے جواب دیتے ہیں کہ "کسی نے ایک تصویر بنائی تھی، جس میں ایک آدمی تھا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ وہ چین کا کوئی آمر تھا۔" اس کے بعد ویڈیو میں ایک ترمیم شدہ تصویر دکھائی جاتی ہے جس میں ایمباپے کا چہرہ ، نیلے رنگ کے سوٹ میں ملبوس، ماؤ زے تنگ کے جسم پر لگا ہواہے ۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ اس نے فرانسیسی فٹبالر کے نمائندوں سے رابطہ کیا لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ریڈ نوٹ' نے بھی تنقید میں شامل ہوتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایمباپے کے ساتھ، اس کی مواد سے متعلقہ، شراکت داری 31 دسمبر 2024 کو ختم ہو چکی ہے اور ’’متعلقہ تشہیری مواد ہٹا دیا جائے گا۔‘‘
پلیٹ فارم نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ وہ ’’قومی جذبات کو مجروح کرنے والے ہر قسم کے طرزِ عمل‘‘ کی مخالفت کرتا ہے۔























