سیاست
3 منٹ پڑھنے
امریکہ نے ایران کے حوالے سے مسودے کو نئے سرے سے تیار کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں پیش کر دیا
اپ ڈیٹ شدہ مسودے نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل نمبر 7 کا حوالہ ہٹایا ہے، جو کونسل کو پابندیوں سے لے کر عسکری کارروائی تک کے اقدامات نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
امریکہ نے ایران کے حوالے سے مسودے کو نئے سرے سے تیار کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں پیش کر دیا
یہ واضح نہیں تھا کہ کونسل قرارداد پر کب ووٹنگ کرے گی۔ [فائل] / AP

واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مسودے پر نظرثانی کی ہے جو ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کا سد باب کیے جانےکا مطالبہ کرتی ہے، مگر سفارت کاروں کے بقول یہ تبدیلیاں چینی اور روسی ویٹو کو روکنے کے لیے غالباً ناکافی ہیں۔

جمعرات کو سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ شیئر کردہ اور رویٹرز نیوز ایجنسی کی طرف سے اعلان کردہ اپ ڈیٹ شدہ مسودے نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل نمبر 7 کا حوالہ ہٹایا، جو کونسل کو پابندیوں سے لے کر عسکری کارروائی تک کے اقدامات نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

تاہم ایک شق برقرار رہی کہ اگر عدم تعمیل ہوئی تو کونسل "منطقی اقدامات پر غور کرنے کے لیے دوبارہ ملاقات کرے گی … جس میں پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں، تاکہ اس علاقے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔"

یہ واضح نہیں ہے کہ کونسل کب اس قرارداد پر رائے شماری کر سکتی ہے۔

اگرچہ متن واضح طور پر طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا، اس نے اسے خارج بھی نہیں کیا، اور یہ رکن ریاستوں کے حق کی تصدیق کرتا ہے … کہ وہ اپنے جہازوں کا دفاع کر سکیں حملوں اور خطرات سے، بشمول ایسے خطرات جو جہاز رانی حقوق اور آزادی کو کمزور کرتے ہوں۔"

چینی اور روسی سخت اعتراضات

پچھلی ایک قرارداد جس کی حمایت امریکہ نے کی تھی اور جو ایران کے خلاف امریکی عسکری کارروائی کو جائز قرار دینے کا راستہ کھولتی نظر آئی، روس اور چین کی طرف سے 15 رکنی اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کرنے سے ناکام ہو گئی تھی۔

سفارت کاروں نے کہا کہ امریکہ اور بحرین کی طرف سے تیار کردہ موجودہ مسودے کا اصل ورژن، جسے اس ہفتے کونسل کے اراکین کے جائزے کے لیے بھیجا گیا، کو چین اور روس کی جانب سے شدید اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔

اقوامِ متحدہ کے ایک سفارت کار نے کہا کہ آرٹیکل 7 کے حوالے کو ہٹانے کے باوجود، جو گزشتہ ماہ کی قرارداد میں بھی کیا گیا تھا، نئے مسودے نے چینی اور روسی اعتراضات کو حل نہیں کیا۔

چین کے اقوامِ متحدہ مشن نے نئے مسودے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، اور روسی مشن نے فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

جمعرات کو روس کے مشن کے ایک بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان کو ‘یکطرفہ اور تصادم آمیز مسودہ قراردادیں منظور کروانے سے باز رہنا چاہیے جو ‘مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر کو بھڑکا سکتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ"یہی وجہ ہے کہ 7 اپریل کو روس نے چین کے ساتھ مل کر ہرمز کی صورتحال پر ایک مسودہ قرارداد کے منظور ہونے سے روکا تھا۔"

منگل کو امریکی ِ خارجہ مارکو روبیو نے مجوزہ قرارداد کو اقوامِ متحدہ کی افادیت کا امتحان قرار دیا اور چین اور روس سے درخواست کی کہ وہ اسے ویٹو نہ کریں۔

 

دریافت کیجیے
کیف اور ماسکو  نے الگ الگ فائر بندی کی پیشکش کے دوران روسی حملوں میں 21 یوکرینی شہری ہلاک
کیا امریکہ اور ایران دوبارہ تمام طاقت کے جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
ہرمز میں نئی مساوات عمل میں آ رہی ہے۔ ایرانی پارلیمانی اسپیکر
جنوبی کوریا نے ہرمز میں جہاز میں آگ لگنے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، ٹرمپ کا ایران پر الزام
ایران: آبنائے ہرمز میں کوئی بھی امریکی منصوبہ فائر بندی کی خلاف ورزی ہو گا
بھارتی وزیر اعظم مودی کو صوبائی انتخابات میں ایک اہم امتحان کا سامنا ہے
ٹرمپ نے یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کا اعلان کر دیا
امریکہ، ایران جنگ پر اختلافات کے بعد جرمنی سے تقریباً 5,000 فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے
ٹرمپ: مجھے ایران کی تازہ ترین پیشکش 'ناگوار' لگی ہے
ایران نے ہوائی دفاعی نظام فعال کر دیا تو ٹرمپ کو کانگریس میں جنگی اختیارات کی مدت کا سامنا ہے
سعودی وزیر: ہمارے ترکیہ کے ساتھ تعلقات، اسٹریٹجک ہیں، ہم اس میںم مضبوطی لانے کے متمنی ہیں
ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ حملوں کے بارے میں فوجی بریفنگ دی جائے گی، رپورٹ
ملک کے پاس سالوں کی جنگ کے لیے کافی میزائل اور ڈرون کے ذخائر موجود ہیں
جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو حل کرنے کے لیے عالمی سطح پر فوری کارروائی کی اپیل
چین کی یورپی یونین کی صنعتی پالیسی پر نکتہ چینی
اقوام متحدہ کے آئینی اصولوں پر 'براہ راست حملہ' کیا جا رہا ہے، یورپی یونین کی تنبیہ
برطانیہ اور فرانس خلیج فارس کے راستے کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کریں گے
نائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ایرانی اسپیکر: امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران 'ضروری اقدامات' کے لیے تیار ہے
وزیر خارجہ حاقان فیدان کی مشرق وسطی میں بھڑکنےو الی آگ کو بجھانے اور پائیدار امن کی اپیل