واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مسودے پر نظرثانی کی ہے جو ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کا سد باب کیے جانےکا مطالبہ کرتی ہے، مگر سفارت کاروں کے بقول یہ تبدیلیاں چینی اور روسی ویٹو کو روکنے کے لیے غالباً ناکافی ہیں۔
جمعرات کو سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ شیئر کردہ اور رویٹرز نیوز ایجنسی کی طرف سے اعلان کردہ اپ ڈیٹ شدہ مسودے نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل نمبر 7 کا حوالہ ہٹایا، جو کونسل کو پابندیوں سے لے کر عسکری کارروائی تک کے اقدامات نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
تاہم ایک شق برقرار رہی کہ اگر عدم تعمیل ہوئی تو کونسل "منطقی اقدامات پر غور کرنے کے لیے دوبارہ ملاقات کرے گی … جس میں پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں، تاکہ اس علاقے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔"
یہ واضح نہیں ہے کہ کونسل کب اس قرارداد پر رائے شماری کر سکتی ہے۔
اگرچہ متن واضح طور پر طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا، اس نے اسے خارج بھی نہیں کیا، اور یہ رکن ریاستوں کے حق کی تصدیق کرتا ہے … کہ وہ اپنے جہازوں کا دفاع کر سکیں حملوں اور خطرات سے، بشمول ایسے خطرات جو جہاز رانی حقوق اور آزادی کو کمزور کرتے ہوں۔"
چینی اور روسی سخت اعتراضات
پچھلی ایک قرارداد جس کی حمایت امریکہ نے کی تھی اور جو ایران کے خلاف امریکی عسکری کارروائی کو جائز قرار دینے کا راستہ کھولتی نظر آئی، روس اور چین کی طرف سے 15 رکنی اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کرنے سے ناکام ہو گئی تھی۔
سفارت کاروں نے کہا کہ امریکہ اور بحرین کی طرف سے تیار کردہ موجودہ مسودے کا اصل ورژن، جسے اس ہفتے کونسل کے اراکین کے جائزے کے لیے بھیجا گیا، کو چین اور روس کی جانب سے شدید اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔
اقوامِ متحدہ کے ایک سفارت کار نے کہا کہ آرٹیکل 7 کے حوالے کو ہٹانے کے باوجود، جو گزشتہ ماہ کی قرارداد میں بھی کیا گیا تھا، نئے مسودے نے چینی اور روسی اعتراضات کو حل نہیں کیا۔
چین کے اقوامِ متحدہ مشن نے نئے مسودے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، اور روسی مشن نے فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
جمعرات کو روس کے مشن کے ایک بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان کو ‘یکطرفہ اور تصادم آمیز مسودہ قراردادیں منظور کروانے سے باز رہنا چاہیے جو ‘مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر کو بھڑکا سکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ"یہی وجہ ہے کہ 7 اپریل کو روس نے چین کے ساتھ مل کر ہرمز کی صورتحال پر ایک مسودہ قرارداد کے منظور ہونے سے روکا تھا۔"
منگل کو امریکی ِ خارجہ مارکو روبیو نے مجوزہ قرارداد کو اقوامِ متحدہ کی افادیت کا امتحان قرار دیا اور چین اور روس سے درخواست کی کہ وہ اسے ویٹو نہ کریں۔
















