امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ٹیرف کے معاملے پر کینیڈا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، اور اوٹاوا کی تجارتی پالیسیوں اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات پر اپنے حملوں کی تجدید کی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، "کینیڈا ایک امریکی ریاست بنے بغیر اس کے تمام فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے!!!"
انہوں نے کینیڈا پر امریکی زرعی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ امریکی کسانوں کو برسوں سے "بڑے پیمانے پر ٹیرف" کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع کے دوران سامنے آئے ہیں۔
اس سے قبل، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ کینیڈا کو "نقصان پہنچانے اور تقسیم کرنے" کے لیے نئے ٹیرف کا استعمال کر رہا ہے، اور انہوں نے امریکی اقدامات کو "ایک غلط فہمی" قرار دیا تھا۔
کارنی نے 8 ستمبر سے ڈالر کے بدلے ڈالرجوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ کینیڈا نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات اس وقت معطل کر دیے جب امریکہ نے ایسے مطالبات کیے جنہیں اوٹاوا قبول نہیں کر سکتا تھا۔
دوسری جانب، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ کینیڈا ایک ایسے تقریباً مکمل شدہ معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا ہے جو امریکی مارکیٹ میں کینیڈین برآمدات پر ٹیرف کو مزید کم کر دیتا۔
یہ تنازع کینیڈا کے اس فیصلے کے بعد پیدا ہوا ہے جس میں اس نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے تھے، کیونکہ اوٹاوا کے مطابق واشنگٹن کی مجوزہ شرائط میں ایسی تبدیلیاں شامل تھیں جو ناقابلِ قبول تھیں۔





















