مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
متعدد ایرانی ٹینکر کامیابی سے امریکی ناکہ کاٹ چُکے ہیں
آبنائے ہُرمز پر امریکی محاصرہ لگنے سے تاحال 34 ایرانی ٹینکر محاصرے میں شگاف ڈال چُکے ہیں
متعدد ایرانی ٹینکر کامیابی سے امریکی ناکہ کاٹ چُکے ہیں
اب تک امریکی افواج نے خلیج عمان میں ایک کنٹینر جہاز ضبط کر لیا ہے اور ہند بحرالکاہل میں ایک پابندی شدہ ٹینکر پر سوار ہوئے ہیں۔ / Reuters

امریکہ کے آبنائے ہرمزکا محاصرے شروع کرنے سے تاحال کم از کم 34 ایرانی ٹینکر ، جن میں سے کئی ایرانی خام تیل سے لدے ہوئے تھے، محاصرے میں شگاف ڈال چُکے ہیں۔

روزنامہ فنانشل ٹائمز کی  بدھ کو شائع کردہ خبر کے مطابق  واشنگٹن نے 13 اپریل کو محاصرہ  شروع کیا۔  ایران کے ساحلی پانیوں میں دخول یا خروج کرنے والی تمام کشتیاں اس محاصرے کا ہدف تھیں۔ 16 اپریل تک پابندیاں وسیع کر دی گئیں اور کھلے سمندر میں موجود کسی بھی ایرانی جہاز کے علاوہ ایسی کشتیاں بھی نشانے پر آئیں جو جنگی حوالے سے ایران کی مدد کی اہل  باربرداری کر رہی ہوں۔

امریکی افواج اب تک  بحیرہ عمان میں ایک کنٹینر بحری جہاز کوضبط کر چُکی  اور انڈو۔ پیسسفک میں ایک پابندی زدہ  ٹینکر پر چھاپہ مار چُکی ہیں۔

امریکی  سینٹرل کمانڈ 'سینٹ کوم' نے منگل کوجاری کردہ بیان میں  کہا  تھاکہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرہ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج  28 کشتیوں کو واپس لوٹنے یا راستہ بدلنے کا حکم دے چُکی ہے۔

اسی دن CNBC کے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ  "محاصرہ بے حد کامیاب رہا ہے  اورجب تک  ایران کے ساتھ حتمی سمجھوتہ نہیں ہوجاتا واشنگٹن ناکہ نہیں اٹھائے گا"۔  

خبر کے مطابق مذکورہ تمام کوششوں کے باوجود درجنوں کشتیاں محاصرے سے بچ نکلنے میں کامیاب رہی  ہیں۔ ایران سے منسلک  کم از کم 19 اٹینکر خلیج سے نکلنے میں اور 15 براستہ بحیرہ خلیج میں داخلے میں کامیاب ہو چُکے ہیں۔

خلیج سے نکلنے والے کم از کم 6 ٹینکروں پر 10،7 ملین بیرل ایرانی خام پیٹرول لدا ہوا تھا۔ ایرانی تیل کے عام طور پر برنٹ کروڈ کی نسبت سستا  فروخت ہونے کی وجہ سے فی بیرل 10 ڈالر کی رعایت کو نگاہ میں رکھا جائے تو ناکہ توڑنے والی  کُل ترسیل کی مالیت  تقریباً 910 ملین ڈالر  بنتی ہے۔

واشنگٹن اور ایران کے درمیان تناؤ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوا۔ جواب میں تہران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثاثوں اور اڈوں پر حملے کئے۔

بعد ازاں اسلام آباد نے 11۔12 اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی، جو 1979 میں تعلقات منقطع ہونے کے بعد پہلی بلمشافہ بات چیت تھی۔

ایران نے گذشتہ جمعہ کو مختصروقت کے لئے آبنائے ہرمز کو بحری سیروسفر کے لئے کھولا لیکن   ٹرمپ کے ایرانی بندرگاہوں کو بند رکھنے کا اعلان کرنے کے بعد ایک ہی  دن بعد دوبارہ بند کر دیا ۔

دریافت کیجیے
امریکا نے جنوبی کوریا کے ساتھ سیٹلائٹ اینٹیلجنس معلومات کا تبادلہ محدود کر دیا
ہمارے جہاز پر قبضہ بحری قزاقی ہے،مذمت کرتے ہیں :ایران
ایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
اسرائیل کا تازہ حملہ،3 فلسطینی ہلاک
جاپان: 7،4 کی شدت سے زلزلہ، سونامی کی وارننگ
پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا
ایران  نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں دو افراد کو تختہ وار پر لٹکا دیا
شمالی کوریا نے کلسٹر بم اور بیلسٹک میزائلوں کا آزمائشی تجربہ کر ڈالا
اسرائیل: جنوبی لبنان کے باشندے سرحدی علاقوں سے دور رہیں
روس: یوکرین نے تواپسے بندرگاہ کو نشانہ بنایا ہے
امریکی فوجی حملے میں کیریبین میں تین افراد ہلاک، 'منشیات اسمگلنگ' کے خلاف مہم میں تیزی
عیسی مسیح کے علامتی مجمسے کی بے حرمتی کی ہے:اسرائیلی فوج کا اعتراف
خلیج عمان میں امریکی ایرانی کشیدگی میں اضافہ
امریکہ، جاپان اور فلپائن نے بڑے پیمانے کی فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: امریکہ کی "بحری قزاقی" کا بھرپور جواب دیا جائے گا