امریکی سینٹکام (CENTCOM) کے مطابق، امریکی بحریہ کے جنگی جہاز پر نئے میزائل حملوں کی کوشش کے بعد ایران کے متعدد آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے
امریکہ کا کہنا ہے کہ اسلامی پاسداران انقلابِ کی جانب سے دو دنوں میں دو بار بیلسٹک میزائلوں سے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں، امریکی افواج نے ایران کے پانچ خام تیل لے جانے والے ٹینکرز کو تباہ کر دیا ہے۔
امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے واضح کیا ہے کہ امریکی جنگی جہاز ان دونوں حملوں سے محفوظ رہا اور کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ بیان کے مطابق، ان ٹینکرز پر بمباری کر کے انہیں ناکارہ بنانے سے پہلے، اس پر موجود عملے کو جہاز خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
نشانہ بنائے گئے پانچ ٹینکرز کے نام کاویز ، چارمینار ، ہورائزن 1 ، ریسکو اور دریا بتائے گئے ہیں۔
ان میں سے چار ٹینکرز خلیجِ عمان میں، جبکہ ایک ایران کے جزیرہ خارگ کے قریب تباہ کیا گیا۔
اس سے قبل ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ خلیج میں جزیرہ خارگ کے قریب ایران کے ایک آئل ٹینکر کو امریکی میزائل لگا ہے۔ یہ ٹینکر منگل کی شام جزیرے سے تقریباً چار ناٹیکل میل دور نشانہ بنا؛ تاہم واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تسنیم کے مطابق، جہاز جزیرہ خارگ کے لنگر انداز ہونے والے علاقے میں امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے ایک گولے کا شکار ہوا۔ مقامی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ٹینکر کے عملے کو پہلے ہی بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
دوسری جانب، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ایران کی بندرگاہ جاسک کے قریب یکبانی ساحل پر ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکہ ہوا ہے۔
دریں اثنا، ان فوجی کارروائیوں کے بعد منگل کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں اور ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی شدت بڑھنے کے باعث دنیا بھر کے شیئر بازاروں میں مندی دیکھی گئی۔




















