ترکیہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نعمان قرتلموش نے آج بروز پیر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اسرائیلی حکومت کی جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ نہ صرف فلسطینیوں کے امن و سکون کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی امن کی ضمانت بھی ہے"۔
استنبول میں منعقدہ نیٹو پارلیمانی سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں قرتلموش نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتااور جب تک فلسطینی آزادی حاصل نہیں کرتے خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "اسرائیلی حکومت کی ان جارحانہ کارروائیاں کا ختم ہونا صرف فلسطینیوں کے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے امن کی ضمانت ہے"۔
انہوں نے ایک بار پھر مشرقی القدس کے دارالحکومت والی آزاد، حقیقی معنوں میں خودمختار اور مقتدر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا ہے کہ "دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دو ریاستی حل کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے اور اسی پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔"
قرتلموش نے نیٹو کے رکن ممالک اور عالمی برادری سے خطے میں جاری امن کوششوں کی حمایت کی اپیل بھی کی اورحالیہ ایران ۔ امریکہ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے کہا ہے کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے مذاکرات کامیابی سے اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے اور امریکہ اور ایران کے درمیان صرف جنگ بندی ہی نہیں ہوگی بلکہ مستقل، منصفانہ اور پائیدار امن بھی قائم ہو جائے گا"۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہےکہ ترکیہ نے ماضی میں ،بحیرۂ اسود اناج معاہدے اور یوکرین اور روس کے درمیان متعدد مرتبہ قیدیوں کے تبادلے میں سہولت کی فراہمی سمیت، ثالثی کی متعدداہم کوششیں کی ہیں ۔
دفاعی تعاون کے حوالے سے قرتلموش نے کہا ہےکہ ترکیہ نے دفاعی صنعت میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور وہ اپنی صلاحیتیں اتحادی ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہےکہ ترکیہ مجموعی قومی پیداوار کا پانچ فیصد دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے کے ہدف کا پابند ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بعض اتحادی ممالک کی جانب سے ترکیہ کی دفاعی صنعت پر عائد پابندیوں پر تنقید کی اور انہیں "یک طرفہ، بے معنی اور اتحاد کی روح کے منافی" قرار دیا ہے۔
قرتلموش نے ایک "نئے، منصفانہ اور مساوی عالمی نظام" کے قیام کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ اس وقت دنیا اور نیٹو ایک "تاریخی موڑ" پر کھڑے ہیں۔

















