چین نے آج بروز جمعرات سے اپنے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے ساحل کے قریب آبنائے تائیوان کے بعض حصوں میں براہِ راست فائرنگ کی 2 روزہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کے درمیان ملاقات سے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ ملاقات میں تائیوان سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔
چینی بحری حکام نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ مشقیں صوبہ گوانگ ڈونگ سے متّصل دونگ شان جزیرے کے اطراف میں ہر روز صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہیں گی۔
چین نے گزشتہ دسمبر میں تائیوان کے گرد اپنی اب تک کی بڑی ترین فوجی مشقیں کی تھیں۔ یہ مشقیں، امریکہ کے تائیوان کے لیے 11.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ مالیت کے اسلحہ پیکج کا اعلان کرنے کے بعد شروع کی گئی تھیں۔
اُن دنوں کی گئی 10 گھنٹے طویل براہِ راست فائرنگ مشقوں کے دوران چین کے مشرقی تھیٹر کمانڈ دفتر نے تائیوان کے شمالی اور جنوبی سمندری علاقوں کی جانب راکٹ بھی داغے تھے۔
واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصّہ قرار دیتا لیکن تائیوان حکومت، چین کے دعوی خودمختاری کو، مسترد کرتی ہے۔



















