نیوزی لینڈ نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شدّت پکڑتی ’’اسرائیلی کاروائیاں‘‘ پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’اسرائیلی اقدامات میں واضح طور پر ایسی شدت پیدا ہوئی ہے جو پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔‘‘
پیٹرز نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ان بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کی بھی سخت مذمت کی اور ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیٹرز نے کہا ہے کہ ’’نیوزی لینڈ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے پُرتشدد حملوں کو روکے اور ان کے خلاف کارروائی کرے، اور امن کے امکانات کو مزید کمزور کر سکنے کے اہل اقدامات سے پرہیز کرے۔‘‘
پیٹرز نے زور دیا ہے کہ الحاق کی جانب اٹھائے جانے والے اقدامات یا فلسطینیوں کی جبری ہجرت پر مبنی دھمکی آمیز کارروائیاں بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں لہٰذا ویلنگٹن انہیں سختی سے مسترد کرتا ہے ۔
نیوزی لینڈ کے دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے پیٹرز نے کہا ہے کہ یہ حل، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کی’’بہترین امید‘‘ ہے۔
واضح رہے کہ منگل کے روز قبل ازیں برطانیہ، فرانس، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت محدود کرنے کے لیے اقدامات کرنےکا اعلان کیا تھا۔


















