چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر تائیوان کے معاملے کو "صحیح طریقے سے نہ نمٹایا گیا" تو چین اور امریکہ کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔
شن ہوا نیوز ایجنسی کے مطابق، شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کی سرکاری عمارت 'گریٹ ہال آف دی پیپل' میں ملاقات کے دوران بتایا کہ تائیوان کا مسئلہ "چین امریکہ تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ" ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسے صحیح طریقے سے نمٹایا جائے تو دوطرفہ تعلقات میں مجموعی استحکام رہے گا بصورت دیگر، دونوں ممالک کے درمیان تصادم اور یہاں تک کہ تنازعات بھی ہو سکتے ہیں جس سے تعلقات شدید خطرے میں پڑ جائیں گے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ آبنائے تائیوان میں امن اور تائیوان کی آزادی ایک دوسرے کے اس طرح سے متضاد ہیں جیسے "آگ اور پانی"۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کا تحفظ دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم موضوع ہے۔
مشرق وسطیٰ کا تنازع، تائیوان، تجارت اور محصولات ان مسائل میں شامل تھے جن پر دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں اعلیٰ ترجیح کی توقع تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز تائیوان کے دفاع کے لیے امریکی حمایت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا تھا کہ وہ "صدر شی کے ساتھ یہ گفتگو کریں گے"۔
دی نیویارک ٹائمز کے مطابق، سینیٹرز کے ایک دو طرفہ گروپ نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کے لیے 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے رکے ہوئے پیکیج کو آگے بڑھائیں جو مہینوں سے امریکی امور خارجہ میں زیر التوا ہے۔
تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر امریکہ نے گزشتہ سال 11 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی تھی جس پر بیجنگ کی طرف سے احتجاج کیا گیا تھا۔
چین تائیوان کے خود مختار جزیرے کو اپنا "باغی صوبہ مانتا ہے جبکہ تائی پے 1949 سے اپنی آزادی پر اصرار کر رہا ہے۔











