اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی، ایتمار بین گویر نے یورپی یونین کو "یہود دشمن قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے
یہ ردعمل یورپی یونین کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
بین گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (X) پر اپنی پوسٹ میں لکھا: "یہود دشمن یونین سے اخلاقی فیصلے کی توقع کرنا ایسا ہی ہے جیسے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی توقع کرنا۔" انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین ان لوگوں کے "ہاتھ باندھنے" کی کوشش کر رہی ہے جو اپنا دفاع کرتے ہیں۔
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز نئی پابندیوں پر اتفاق کیا، جو ہنگری میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ممکن ہو سکا، جس نے مہینوں سے جاری اس رکاوٹ کو ختم کر دیا۔
یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کلاس (Kaja Kallas) نے کہا: "یہ وقت تھا کہ ہم تعطل سے نکل کر عملی اقدامات کی طرف بڑھیں انتہا پسندی اور تشدد کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔"
فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئیل باروٹ (Jean-Noel Barrot) نے کہا کہ یورپی یونین ان اہم اسرائیلی تنظیموں اور ان کے رہنماؤں پر پابندیاں لگا رہی ہے جو مغربی کنارے میں انتہا پسندانہ اور پرتشدد آباد کاری کی حمایت کے مجرم ہیں
۔ اس فیصلے کے تحت سات غیر قانونی آباد کاروں یا تنظیموں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل نے ان نئے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہودیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد ہونے کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈون سار (Gideon Saar) نے 'ایکس' پر پوسٹ کیا کہ یورپی یونین نے "من مانے اور سیاسی انداز" میں پابندیاں لگانے کا انتخاب کیا ہے۔
بین گویر نے اصرار کیا کہ "آباد کاری کے منصوبے کو ڈرایا نہیں جا سکے گا" اور انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ پورے اسرائیل کی سرزمین پر تعمیرات اور دفاع کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔















