دنیا
4 منٹ پڑھنے
چینی صدر سے ملاقات میرے لیے اعزاز کی بات ہے:ٹرمپ
بیجنگ میں شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا خہ آپ کے ساتھ ملنامیرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، اور چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات اب پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہونے جا رہے ہیں
چینی صدر سے ملاقات میرے لیے اعزاز کی بات ہے:ٹرمپ
چین-امریکہ / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک امریکہ تعلقات کے بجائے امریکہ اور چین کے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں پرامید ہونے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات اب "پہلے سے کہیں زیادہ بہتر" ہونے کے لیے تیار ہیں۔

بیجنگ میں شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا خہ آپ کے ساتھ ملنامیرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، اور چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات اب پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہونے جا رہے ہیں۔

ان کے یہ  تاثرات شی جن پنگ کی جانب سے عوامی ہال  میں صدر کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کی ميزبانی کے بعد سامنے آئے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے تعلقات شاندار رہے ہیں جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل جل کر ان کا حل نکالا ہے ۔

یہ ٹرمپ کے گزشتہ دورِ صدارت کے دوران 2017 کے دورے کے بعد کسی بھی موجودہ امریکی صدر کا چین کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے مضبوط ذاتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے براہِ راست رابطے کے ذریعے ہمیشہ تناؤ کو سنبھالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کو فون کرتا تھا اور آپ مجھے فون کرتے تھے، جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا ہم نے اسے بہت جلدی حل کر لیا  جبکہ اب   ہمارا مستقبل ایک ساتھ بہت شاندار ہونے والا ہے۔"

ٹرمپ نے بار بار شی جن پنگ کی قیادت اور ان کے دور حکومت میں چین کی ترقی کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ میرے دل میں چین اور آپ کے کام کے لیے بہت احترام ہے۔ آپ ایک عظیم رہنما ہیں۔ میں یہ بات ہر ایک سے کہتا ہوں۔ آپ ایک عظیم لیڈر ہیں۔ بعض اوقات لوگ میرا یہ کہنا پسند نہیں کرتے لیکن میں پھر بھی یہ کہتا ہوں، کیونکہ یہ سچ ہے۔"

ٹرمپ نے اس سربراہی اجلاس کے معاشی پہلو پر بھی زور دیا اور واضح کیا کہ ان کے وفد کے ارکان  جن میں نامور کاروباری شخصیات شامل ہیں  چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے بے تاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ تجارت اور کاروبار کرنے کے منتظر ہیں، اور یہ ہماری طرف سے مکمل طور پر مساوی بنیادوں پر ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شاید اب تک کا سب سے بڑا سربراہی اجلاس ہے۔

اس اجلاس کے ایجنڈے میں ایران جنگ کے ساتھ ساتھ تجارت اور ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) سرفہرست ہیں۔

ٹرمپ کے ہمراہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے علاوہ بڑی امریکی کمپنیوں کے متعدد سی ای اوز (CEOs) بھی شامل ہیں، جن میں  این ویڈیا (Nvidia) کے جینسن ہوانگ اور ٹیسلا (Tesla) کے ایلون مسک نمایاں ہیں۔

امریکی کاروباری وفد میں ایپل کے ٹم کک، بلیک راک کے لیرنگ فنک، بلیک اسٹون کے اسٹیفن شوارزمین، بوئنگ کے کیلی اورٹبرگ، کارگل کے برائن سائیکس، سٹی گروپ کی جین فریزر، جی ای ایرواسپیس کے لیرنگ کلپ، گولڈمین سیکس کے ڈیوڈ سولومن، مائکرون کے سنجے مہروترا اور کوالکوم کے کرسٹیانو ایمون شامل ہیں۔

یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے دوران ہو رہا ہے، جو 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں ہوئیں اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تھا۔

اس وقت علاقے میں ایک طویل جنگ بندی نافذ ہے۔

چین نے خطے میں مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بیجنگ پر ایران کی فوجی اور اقتصادی صلاحیتوں کو تعاون فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
قانون سازوں نے اسٹارمر سے استعفی کا مطالبہ کر دیا
ایران جنگ کی لاگت سے امریکی شہریوں کو 37 بلین ڈالر سے زیادہ کی اضافی توانائی کی قیمتوں کا سامنا ہے — رپورٹ
بیلجیئم ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے:میکسیم پرِیوُو
امید ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے: کالاس
ایشیاءتوانائی کے بڑے جھٹکوں کے لئے تیار ہو رہا ہے
سابق تھائی وزیراعظم شیناواترا کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا
جب تک جوہری مواد موجود ہے معاملہ ختم نہیں ہو گا: نیتن یاہو
مشرقی کونگو میں دہشتگردانہ حملے،21 افراد ہلاک
ٹرمپ کو ایران کا جواب پسند نہیں آیا،تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
روس، سلوواکیہ کو توانائی فراہم کرنے کی 'ہر ممکن' کوشش کرے گا: پوتن
اسرائیل نے عراق میں ایک خفیہ فوجی اڈّہ بنا لیا
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
باکستان: کار بم دھماکہ اور فائرنگ، بارہ پولیس اہلکار ہلاک
چین: جاپان، انڈو-پیسیفک کو بطور پردہ استعمال کر رہا ہے
پوتن: روسی افواج نیٹو کی طرف سے مسلح اور حمایت کردہ ایک حملہ آور طاقت سے نبرد آزما ہے