امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک امریکہ تعلقات کے بجائے امریکہ اور چین کے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں پرامید ہونے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات اب "پہلے سے کہیں زیادہ بہتر" ہونے کے لیے تیار ہیں۔
بیجنگ میں شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا خہ آپ کے ساتھ ملنامیرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، اور چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات اب پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہونے جا رہے ہیں۔
ان کے یہ تاثرات شی جن پنگ کی جانب سے عوامی ہال میں صدر کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کی ميزبانی کے بعد سامنے آئے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے تعلقات شاندار رہے ہیں جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل جل کر ان کا حل نکالا ہے ۔
یہ ٹرمپ کے گزشتہ دورِ صدارت کے دوران 2017 کے دورے کے بعد کسی بھی موجودہ امریکی صدر کا چین کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے مضبوط ذاتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے براہِ راست رابطے کے ذریعے ہمیشہ تناؤ کو سنبھالا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں آپ کو فون کرتا تھا اور آپ مجھے فون کرتے تھے، جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا ہم نے اسے بہت جلدی حل کر لیا جبکہ اب ہمارا مستقبل ایک ساتھ بہت شاندار ہونے والا ہے۔"
ٹرمپ نے بار بار شی جن پنگ کی قیادت اور ان کے دور حکومت میں چین کی ترقی کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ میرے دل میں چین اور آپ کے کام کے لیے بہت احترام ہے۔ آپ ایک عظیم رہنما ہیں۔ میں یہ بات ہر ایک سے کہتا ہوں۔ آپ ایک عظیم لیڈر ہیں۔ بعض اوقات لوگ میرا یہ کہنا پسند نہیں کرتے لیکن میں پھر بھی یہ کہتا ہوں، کیونکہ یہ سچ ہے۔"
ٹرمپ نے اس سربراہی اجلاس کے معاشی پہلو پر بھی زور دیا اور واضح کیا کہ ان کے وفد کے ارکان جن میں نامور کاروباری شخصیات شامل ہیں چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے بے تاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ تجارت اور کاروبار کرنے کے منتظر ہیں، اور یہ ہماری طرف سے مکمل طور پر مساوی بنیادوں پر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ شاید اب تک کا سب سے بڑا سربراہی اجلاس ہے۔
اس اجلاس کے ایجنڈے میں ایران جنگ کے ساتھ ساتھ تجارت اور ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) سرفہرست ہیں۔
ٹرمپ کے ہمراہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے علاوہ بڑی امریکی کمپنیوں کے متعدد سی ای اوز (CEOs) بھی شامل ہیں، جن میں این ویڈیا (Nvidia) کے جینسن ہوانگ اور ٹیسلا (Tesla) کے ایلون مسک نمایاں ہیں۔
امریکی کاروباری وفد میں ایپل کے ٹم کک، بلیک راک کے لیرنگ فنک، بلیک اسٹون کے اسٹیفن شوارزمین، بوئنگ کے کیلی اورٹبرگ، کارگل کے برائن سائیکس، سٹی گروپ کی جین فریزر، جی ای ایرواسپیس کے لیرنگ کلپ، گولڈمین سیکس کے ڈیوڈ سولومن، مائکرون کے سنجے مہروترا اور کوالکوم کے کرسٹیانو ایمون شامل ہیں۔
یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے دوران ہو رہا ہے، جو 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں ہوئیں اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تھا۔
اس وقت علاقے میں ایک طویل جنگ بندی نافذ ہے۔
چین نے خطے میں مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بیجنگ پر ایران کی فوجی اور اقتصادی صلاحیتوں کو تعاون فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔








