ایک طرف یوکرین اور روس کے درمیان ہونے والے واقعات اور دوسری طرف ایران-اسرائیل-امریکہ کے تانے بانے سے شروع ہو کر پورے خلیج میں پھیلنے کا احتمال رکھنے والی جنگ۔۔۔ دنیا پچاس سال سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی بار اس قدر شدید، طویل اور وسیع رقبے کو متاثر کرنے والے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
بے شک یہ صورتِ حال اُن ممالک کے لیے خاص طور پر تکلیف دہ ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے نئے نظام کو دائمی سمجھتے رہے۔ جو لوگ نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے ان کی فہرست بنائی جائے تو یورپ کے ممالک سرفہرست ہوں گے، یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ براعظم کے مختلف دارالحکومتوں میں دکھائی دینے والے اشارے یہ بتاتے ہیں کہ ان میں سے تقریباً کوئی بھی حقیقی جنگ کے لیے تیار نہیں ہے۔
ختم ہونے والے میزائل ذخائر کو دوبارہ پورا کرنا آسان نہیں ہے
بڑی تصویر کو درست طور پر سمجھنے والے ممالک یہ جانتے ہیں کہ دنیا پہلے جیسی نہیں رہی اور اس جنگ کے ماحول کا جلد ختم ہونا بعید از قیاس ہے۔ یہی حقیقت اربوں ڈالر کے معاہدوں، بننے والے نئے اتحادوں اور ایک ساتھ حرکت کرنے کی نیت کے پیچھے ہے۔
جنگ کے ساتھ بالکل واضح ہونے والے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ انوینٹری میں موجود گولہ بارود تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اسے بدل کر نئی اشیاء لانا تصور سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال تمام زمروں پر صادق آتی ہے مگر سب سے زیادہ متاثر کن پہلو میزائلوں کا ہے۔
یہ قابلِ غور ہے کہ امریکہ جیسے بڑے پیداوار کار اور اپنی فہرست لامتناہی ہونے کے تاثر سے دنیا کو للکارنے والا روس آج کہاں کھڑا ہے۔ دونوں طاقتوں کے انوینٹری میں موجود میزائل، گولہ بارود اور جدید نظام تنقیدی سطح تک پہنچ چکے ہیں، یہ کوئی راز نہیں۔
بہت عرصے سے 'بڑی جنگ' کی تیاری میں مصروف ایران کے پاس موجود جدید میزائل کتنی تیزی سے ختم ہوئے اور دنیا کے گوشے گوشے سے امداد پانے والے یوکرین کو بھی کن سخت مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے، یہ بات واضح ہے۔
فی الحال دنیا بھر میں میزائل کے ذخائر کا مسئلہ موجود ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مسئلہ بڑھتا جائے گا۔
ترکیہ میزائل پیداوار میں خلا پُر کرنے والا ملک بن سکتا ہے
اسی نقطہ نظر کے تحت ترکیہ کا معادلے میں آنا حیران کن نہ ہوگا۔۔۔ انقرہ طویل مدت سے اپنے میزائل خود تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔
مقامی/ملکی میزائل تیار کرنے کے لیے محنت کرنے والی کمپنیوں نے درحقیقت طویل اور نہایت مشکل راستے طے کیے ہیں۔ کافی پیسہ، بہت سا وقت اور سنجیدہ چیلنجز کے بعد ترک کمپنیوں نے اپنے میزائل منصوبوں کو عملی شکل دینے میں کامیابی حاصل کی۔
آج کے مقام تک ROKETSAN سے MKE تک، ARCA سے Baykar، Sage، Kale Savunma تک متعدد کمپنیاں اپنے میزائل منصوبوں کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچا چکی ہیں۔ صاف الفاظ میں کہا جائے تو ترکیہ نے اس کام کا مشکل ترین مرحلہ پیچھے چھوڑ دیا ہے اور میزائل منصوبوں میں سیریل پیداوار کر سکنے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
انقرہ کے ٹینک شکن میزائل، کروز میزائل، ہوا دفاعی میزائل اور بیلسٹک میزائل سیریل پیداوار میں ہیں۔ اس کے علاوہ ترکیہ کی دفاعی صنعت کی کمپنیوں کی استعداد بڑھانے کی کوششیں بھی تیزی کے ساتھ جاری ہیں۔
جب خطرہ اِس قدر واضح اور نمایاں ہو تو خاص طور پر یورپی ممالک کے لیے یہ ماحول نہیں کہ وہ 'دس سال بھی لگ جائیں انتظار کریں اور اپنا پروڈکٹ تیار کریں' کہہ سکیں۔ جنگ دروازے پر ہے؛ اسی لیے ضروریات 'کل کی نہیں، آج کی مانگ' کی شکل میں سامنے آ رہی ہیں۔
میزائل کے ذخائر کو کسی طرح دوبارہ بھرنا یا نئے میزائل حاصل کرنا چاہنے والے ممالک کے لیے دسترس رکھنے والے ذرائع کافی محدود ہیں۔ اسی مقام پر یہ خیال عام ہے کہ ترکیہ مناسب انتظامی منصوبہ بندی کے ساتھ سامنے آ سکتا ہے اور یورپ کے ساتھ ساتھ مختلف جغرافیائی خطوں سے آنے والی مانگوں کو پورا کر سکتا ہے۔




















