امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ جنوبی کوریا امریکی توانائی اور اسٹریٹجک منصوبوں بشمول جوہری توانائی، مائع قدرتی گیس اور قدرتی گیس کے انفراسٹرکچر میں 200 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان سرمایہ کاریوں پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر نیویارک میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میانگ کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات کے دوران اتفاق ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاریاں، بشمول امریکہ میں آٹھ بڑے پیمانے کے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے 120 بلین ڈالر کا جوہری توانائی کا پروگرام، اس 350 بلین ڈالر کے 'کوریا اسٹریٹجک ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ڈیل' کے تحت آتی ہیں جو انہوں نے گزشتہ سال صدر لی کے ساتھ طے کی تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور سیول نے 50 بلین ڈالر کے الاسکا ایل این جی منصوبے پر بھی تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور مزید کہا کہ یہ "الاسکا کے لوگوں کے لیے ایک انقلابی تبدیلی لائے گا۔"
انہوں نے بتایا کہ اس پیکیج میں ٹیکساس کے شہر اینسینل میں 22 بلین ڈالر کا 6.4 گیگا واٹ کا قدرتی گیس سے چلنے والا پاور پروجیکٹ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ سودے ہمارے تجارتی معاہدوں کے مرہونِ منت ہیں۔ ہم کوریا کے سرمایہ کاری کے وعدوں کو تعمیرات کے بڑے منصوبوں اور لاکھوں امریکی ملازمتوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔






















