ترکیہ
6 منٹ پڑھنے
فتح استنبول:تاریخ کی سمت بدلنے والی فتح
مشرق اور مغرب کے درمیان واقع شہر استنبول کو 573 سال پہلے عثمانی بادشاہ فاتح سلطان محمد کی فوج نے فتح کیا
فتح استنبول:تاریخ کی سمت بدلنے والی فتح
اوتاغ تیپے پارک اور فاتح سلطان محمد پل کا فضائی منظر

استنبول نے، سلطنتِ روما، سلطنتِ بازنطین اور سلطنتِ عثمانیہ پر مشتمل، تین عظیم سلطنتوں کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس شہر کو تاریخ میں "دوسرا روم"، "نیا روم"، "بازنطین"، "کانتن ٹینو پولیس" اور "قسطنطنیہ" جیسے ناموں سے بھی پکارا گیا۔

تاریخ بھر میں اس شہر کا تقریباً 30 مرتبہ مختلف افواج نے محاصرہ کیا۔ یہاں مندروں، سرکاری عمارتوں، محلات، حماموں اور ہپوڈروم کی تعمیر کی گئی اور یہ آرتھوڈوکس عیسائیوں کا سب سے اہم مذہبی مرکز بھی رہا۔

ینی کاپی کی تاریخی کھدائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی  تاریخ تقریباً 8 ہزار سال پرانی ہے۔ شہر کی تاریخ میں  ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب چوتھی صدی عیسوی میں قسطنطین اعظم نے رومی تخت سنبھالنے کے بعد اس شہر کو اپنی نئی سلطنت کا دارالحکومت بنایا۔

پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ کی اس مشہور حدیث کے بعد کہ"قسطنطنیہ ضرور فتح کیا جائے گا۔ اسے فتح کرنے والا سپہ سالار کیا ہی بہترین سپہ سالار ہوگا اور اسے فتح کرنے والی فوج کیا ہی بہترین فوج ہوگی۔"
یہ شہر اسلامی دنیا کے لیے بھی فتح کے منتظر اہم ترین مقامات میں شمار ہونے لگا۔

مسلمانوں کے لیے مغرب اور عیسائیوں کے لیے مشرق کی دہلیز بننے والا استنبول 1204 میں صلیبی جنگ کے لیے روانہ ہونے والی لاطینی افواج کے حملے کا شکار بھی ہوا۔

اموّی دور  میں قسطنطنیہ کی فتح کے لیے تین بڑی جنگیں  لڑی  گئیں اور ایک جنگ 781-782 میں عباسی خلیفہ نے لڑی۔

معاویہ ابو سفیان کی زیرِ کمانڈ استنبول کےپہلے محاصرے نے اپنے پیچھے بعد کے ادوار تک برقرار رہنے والے گہرے نقوش چھوڑے۔ اس جنگ میں بعض صحابۂ کرام نے بھی شرکت کی۔

صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری، جنہوں نے ہجرتِ مدینہ کے دوران رسولِ اکرم ﷺ کی میزبانی کی تھی، اس محاصرے میں شریک ہوئے اور شہر کی فصیلوں کے سامنے وفات پا گئے۔ ان کی قربانی 1453 کی فتح تک اسلامی دنیا کے لیے ایک عظیم تحریک بنی رہی۔

اسلام میں شہرِ موعودہ

قسطنطنیہ مسلمان حکمرانوں کے لیے حضور ﷺ کی بشارت کے باعث اسلام کا "وعدہ شدہ شہر" بن گیا۔

1453 سے پہلے تک استنبول نے دنیا کی عظیم ترین جنگیں، محاصرے اور دفاعی کارروائیاں دیکھیں  اور مختلف اقوام اور تہذیبوں نے کئی بار اس شہر کا محاصرہ کیا۔

قبل مسیح کے دور میں مقدونیہ کے بادشاہ فلپ دوئم، رومی شہنشاہ سیویروس سپٹیمئس، ایرانی حکمران خسرو، آوار ترک، اموی، عباسی، بلغاری سلطنتیں، روس، کییف کی ریاست، صلیبی، ازنک سلطنت، وینس، جینوا اور عثمانیوں نے اس شہر کا محاصرہ کیا۔

استنبول کی فتح کی جانب سفر

بعض تاریخی ذرائع کے مطابق ہن قبلے کے سربراہ اتیلا، وائکنگز اور گوتھ قبائل نے بھی اس شہر کا محاصرہ کیا تھا۔ لیکن آخری اور فیصلہ کن محاصرہ 1453 میں سلطان محمد ثانی نے کیا، جس نے عثمانیوں کو ایک عظیم سلطنت میں تبدیل کر دیا۔

سلطان محمد ثانی نے تخت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے بحری امداد روکنے کی حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے اناطولیہ حصار کے مقابل 1452 میں رومیلی حصارتعمیر کروایا تاکہ بحیرہ اسود اور دریائے ڈینیوب سے آنے والی امداد روکی جا سکے۔

استنبول کی بلند و مضبوط فصیلوں کو توڑنے کے لیے اُس دور کے ماہر انجینئروں سے عظیم توپیں تیار کروائی گئیں۔ فروری 1453 میں تیار ہونے والی یہ توپیں سلطان کے حکم پر استنبول پہنچائی گئیں۔

کاراجا پاشا کی قیادت میں 10 ہزار فوجیوں نے استنبول کے قریب واقع ویزے، سلیوری اور آیاسٹیفانوس کے قلعوں کا محاصرہ کیا۔

اپریل 1453 میں سلطان محمد ثانی نے تمام صوبوں اور چوکیوں  کو فوج میں شامل ہونے کا حکم دیا، اور 5 اپریل 1453 کو عثمانی فوج ان کی قیادت میں استنبول کی طرف روانہ ہوئی۔ اس دوران آق شمس الدین، اک بییک اور ملا گورانی جیسے اہم علما بھی سلطان کے ہمراہ تھے۔

سلطان محمد ثانی نے اناطولیہ اور خلیجِ گولڈن ہارن کو کنٹرول میں لیا جبکہ زاغنوس پاشا نے بے اوغلو فتح کر کے گالاتا کی طرف پیش قدمی کی۔

اسی روز سلطان نے محمود پاشا کو ایلچی بنا کر بازنطینی بادشاہ کے پاس بھیجا، مگر صلح کی پیشکش مسترد کر دی گئی۔

استنبول کا محاصرہ

سلطان محمد ثانی نے 6 اپریل 1453 کو استنبول کا باضابطہ محاصرہ شروع کیا۔ عثمانی فوج نے شہر کو خشکی اور سمندر دونوں جانب سے گھیر لیا اور فصیلوں میں شگاف ڈالنا شروع کر دیئے۔

بازنطینیوں نے اس دوران فصیلوں کی مرمت کی اور ترک فوج کو شہر میں داخل ہونے سے روکے رکھا۔

عثمانی بحریہ، بازنطینیوں کی مدد کو آنے والے جینوا اور وینس کے جہازوں کو روکنے میں ناکام رہی۔ اس کے علاوہ گولڈن ہارن اور کاراکوئے کے درمیان کھینچی گئی زنجیر کی وجہ سے عثمانی جہاز خلیج میں داخل نہ ہو سکے، جس سے جنگ کا رخ عثمانیوں کے خلاف ہونے لگا۔

اس صورتحال پر سلطان محمد ثانی نے 21 اور 22 اپریل کی درمیانی رات 72 جنگی کشتیوں کو خشکی کے راستے گولڈن ہارن میں اتارنے کا حکم دیا۔

عثمانی بحری جہازوں کو خشکی سے سمندر میں اتارا جانا تاریخ کی ایک حیرت انگیز فوجی حکمتِ عملی تھی۔ دولماباغچہ کے راستے خلیج میں اتاری گئی کشتیوں نے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ 22 اپریل کو عثمانی بحریہ نے خلیج سے حملے شروع کیے تو بازنطینی شدید حیرت میں مبتلا ہوگئے۔

سلطان محمد ثانی نے آخری بڑے حملے سے پہلے 24 مئی کو اسفندیار اوغلو قاسم بے کو ایلچی بنا کر بادشاہ کے پاس بھیجا اور شہر حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، مگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔

کشتیوں کے خلیج میں اترنے کے بعد جنگ کا پانسہ عثمانیوں کے حق میں پلٹ گیا اور سلطان محمد ثانی نے 29 مئی کو عظیم حملے کا حکم دے دیا۔ فجر کے وقت شروع ہونے والے حملے میں فصیلیں عبور کر لی گئیں۔

29 مئی 1453 کو استنبول کے دروازے کھل گئے اور سلطان محمد ثانی کی قیادت میں عثمانی افواج نے شہر فتح کر لیا۔

رسولِ اکرم ﷺ کی بشارت کے مصداق سلطان محمد ثانی کو "فاتح" کا لقب ملا۔ انہوں نے شہر کو لوٹ مار سے محفوظ رکھا اور فتح کی علامت کے طور پر آیہ صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔

عالمی تاریخ میں ایک عظیم موڑ

تاریخ دان اور مصنف ظفر بلگی کے مطابق، استنبول کی فتح صرف ایک شہر کی فتح نہیں بلکہ عالمی تاریخ میں ایک عظیم تبدیلی کا مظہر تھی۔

انہوں نے کہا کہ عثمانیوں کی فوجی حکمتِ عملیاں اپنے دور سے بہت آگے تھیں، جیسے جہازوں کو خشکی پر چلانا، پہیوں والے برج، روملی حصار کی تعمیر، اور سرنگیں کھود کر فصیلوں کے نیچے پہنچنے کی کوششیں، جنہوں نے فتح کو ممکن بنایا۔

ظفر بلگی کے مطابق "استنبول کی فتح کے بعد یورپ اور عیسائی دنیا میں یہ تصور پیدا ہوا کہ اب مغرب کی برتری مشرق کے ہاتھ میں جا چکی ہے۔ اسی دوران یورپ میں نشاۃ ثانیہ اور پروٹسٹنٹ تحریک جیسی تحریکیں ابھریں، جنہوں نے یورپ کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔"

وہ مزید کہتے ہیں کہ فتح کے بعد استنبول میں مذہبی، ثقافتی اور سماجی ترقی کا آغاز ہوا اور سلطان محمد ثانی چاہتے تھے کہ یہ شہر دنیا کے ممتاز ترین مراکز میں شامل ہو۔

سلطنتِ عثمانیہ کا ایک عالمی سلطنت میں تبدیل ہونا اور سلطان محمد فاتح کا سلطنتِ عثمانیہ کا حقیقی بانی مانا جانا، دراصل استنبول کی فتح ہی کا نتیجہ تھا۔

دریافت کیجیے
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے سائے میں عید الاضحی: 9 فلسطینی شہید
صدر اردوعان کا پیغامِ عید: غزّہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
غزّہ کے شہداء میں مسلسل اضافہ، اسرائیل نے ایک عورت اور ایک بچی کو قتل کر دیا
معاہدے کی امیدوں نے منڈیوں میں ماحول خوشگوار کر دیا
امریکہ: کواڈ تعاون دوبارہ فعال کیا جائے
ایران کی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کی جائے گی: ٹرمپ
لبیک اللھم لبیک: عرفات میں لاکھوں کا اجتماع
ایران: امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے ایرانی جہازوں پر حملے کئے ہیں
امریکی فوج کے، ایرانی بحری اور میزائل اہداف پر، حملے
لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے 17 افراد ہلاک
اقوام متحدہ کی طرف سے، پاکستان میں مسافر ٹرین پر، حملے کی مذّمت
ترکیہ اسرائیل کے خلاف آئی سی جے میں نسل کشی کے معاملے کا بڑا حمایتی ہے، جنوبی افریقہ
ملائیشیا غزہ فلوٹیلا کارکنوں سے بد سلوکی پر اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع گا
سان دیاگو کی مسلم کمیونٹی گزشتہ دنوں مسلم فوبیا حملے کے بعد اتحاد و یکجہتی کا پیغام
اسرائیلی فوج نے عید الضحیٰ کی خریداری کے دوران مغربی کنارے کے علاقوں کی دکانیں بند کر دیں