ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے آج بروز بدھ عید الاضحیٰ کے موقع پرجاری کردہ خصوصی پیغام میں عید الاضحیٰ کو “روحانی نعمت” قرار دیا اور اس مبارک دن کے ترکیہ، ترک ملّت، عالمِ اسلام اور پوری انسانیت کے لیے خیر و برکت کا وسیلہ بننے کی تمّنا کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "میں بالخصوص غزہ اور ہمارے قلبی جغرافیے کے مختلف خطوں میں اس عید کو بھی غم، درد اور دلوں میں ایک گہری کسک کے ساتھ منانے والے تمام بہن بھائیوں کے ساتھ اپنی اور اپنی قوم کی جانب سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کرتا اور سب کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد پیش کرتا ہوں"۔
ترکیہ بھر میں لاکھوں افراد نے نمازِ عید کے ساتھ دن کا آغاز کیا۔
صدر اردوعان نے استنبول کی 'چاملی جا' جامع مسجد میں نمازِ عید ادا کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی تہوار سماجی روابط اور باہمی تعاون کو مضبوط بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "سب سے پہلے تو یہ کہ عیدیں محبت، احترام، اتحاد، یکجہتی اور تعاون کے دن ہوتے ہیں لیکن غزہ کی صورتحال نے ترکیہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عید کی خوشیاں ماند کر دی ہیں۔
انہوں نے بنیامین نیتن یاہو پر تنقید کی اسے "ظالم" قرار دیا اور کہا کہ خدا وہ دن لائے کہ ترکیہ اور دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل کی غزہ میں جاری کاروائیوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔
صدر اردوان نے کہا ہے کہ"مجھے یقین ہے کہ نیتن یاہو نامی یہ ظالم دنیا کے مسلمانوں سے ضروری سبق حاصل کر کے رہے گا"۔
واضح رہے کہ ترکیہ، غزہ میں اسرائیلی فوجی حملوں کے سخت ترین ناقدین میں شمار ہوتا ہے۔ صدر اردوعان بارہا فوری جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافے اور اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اردوان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر کے مسلمان غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری انسانی بحرانوں کے سائے میں عید الاضحیٰ منا رہے ہیں۔
عید الاضحیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو قربان کرنے پر آمادگی اور آخری لمحے میں اللہ کے حکم سے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک مینڈھے کی قربانی کے تاریخی موقعے کی یاد میں منائی جاتی ہے۔
مسلمان اس واقعے کی یاد میں قربانی کرتے ہیں اورقربانی کا گوشت غریبوں اور اپنے عزیز و اقارب میں تقسیم کرتے ہیں۔















