مقامی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ حکومتِ ملائیشا حکومت غزہ جانے والی 'گلوبل صمود' انسانی امدادی بیڑے کے سرگرم کارکنوں کے مبینہ اغوا اور تشدد کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرے گی۔
ملائی میل نے رپورٹ کیا ہے کہ ملائیشیا کے ریاست سلانگور کے چیف منسٹر عامرالدین شاری نے کہا کہ کوالالمپور وکلاء کے ذریعے معلومات اور ثبوت اکٹھا کرنے کے بعد فوراً قانونی کارروائی شروع کرے گا ۔
اس بیڑے میں سوار 400 سے زائد بین الاقوامی کارکنان، جن کا مقصد امداد پہنچانے کے لیے اسرائیل کی غزہ پر سمندری ناکہ بندی توڑنا تھا، پچھلے ہفتے بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فورسز کے حملے کا نشانہ بنے اور حراست میں لیے گئے۔
عامرالدین نے کوالالمپور بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 'گلوبل صمود بیڑے 2.0' کے استقبال کے موقع پر کہا: " بیڑے کے شرکاء کو اغوا کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، ہم رکیں گے نہیں۔ قانونی ٹیم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی تمام دستاویزات کو یکجا کر رہی ہے۔"
انہوں نے کہا: “ہم اسے عالمی عدالت لے جائیں گے، سفارتی دباؤ جاری رکھیں گے، اور ملک بھر میں ریلیاں بھی نکالیں گے۔"
عامرالدین نے کہا کہ یہ قانونی اقدام بیڑے کے کارکنان خصوصاً ملائشیا سے تعلق رکھنے والے شرکاء کے خلاف مبینہ بربریت ، جن میں اغوا اور تشدد بھی شامل ہیں، کے ردِ عمل کے طور پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے بعد حکومت کی جانب سے غزہ کی 'مکمل آزادی' کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل سفارتی دباؤ جاری رکھا جائے گا۔
عامرالدین نے کہا کہ اگرچہ GSF 2.0 مشن ختم ہو چکا ہے، ملائشیا اور سلانگور کی فلسطینی دعوے سے وابستگی جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے بر خلاف کوششوں کو مضبوط کرنے کے لیے مستقبل میں فلسطین سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسیں ملائشیا میں منعقد کروانے کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک غزہ پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں ہو جا تی صمود 3.0 اس جدوجہد کو جاری رکھےگا۔





