غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
ترکیہ اسرائیل کے خلاف آئی سی جے میں نسل کشی کے معاملے کا بڑا حمایتی ہے، جنوبی افریقہ
جنوبی افریقہ کے وزیر برائے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون رونالڈ لاموال: "ہم ترکیہ کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ترکیہ نے اس معاملے میں اپنا واضح اور مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔"
ترکیہ اسرائیل کے خلاف آئی سی جے میں نسل کشی کے معاملے کا بڑا حمایتی ہے، جنوبی افریقہ
فائل فوٹو: عالمی عدالت انصاف ہیگ میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے سے متعلق جاری مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔

جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات و تعاون امور کے وزیر رونالڈ لمولا نے کہا کہ ترکیہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف دائر نسل کشی کے مقدمے کی حمایت “بہت واضح” ہے۔

لمولا نے کرُگر نیشنل پارک میں منعقدہ جنوبی افریقہ ترقیاتی برادری (SADC) کے خارجہ امور کے وزراؤں کی نشست میں، اے اے کے رپورٹر کو، اسرائیل کے خلاف دائر نسل کشی کے مقدمے کے امکانات اور پیش رفت کے بارے میں اپنے جائزے پیش کیے۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی افریقہ اس ڈھانچے کی صدارت کر رہا ہے جسے 'ہیگ گروپ' کہا جاتا ہے اور جس کا مقصد بین الاقوامی قانون کے زوال کو روکنا ہے، اور کہا کہ "ترکیہ سمیت متعدد ممالک اس مقدمے میں جنوبی افریقہ کے ساتھ شامل ہیں۔"

لمولا نے کہا کہ مقدمے کے معاملے میں وہ ترکیہ کے ساتھ مربوط انداز میں عمل کر رہے ہیں اور کہا، "ہم ترکیہ کے ساتھ قریبی طور پر کام کر رہے ہیں۔ ترکیہ نے مقدمے میں اپنی حمایت کا بڑے  واضح انداز میں اظہار کیا  ہے۔"

جنوبی افریقہ کا بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف دائر کیا گیا نسل کشی کا مقدمہ

جنوبی افریقہ جمہوریہ نے 29 دسمبر 2023 کو 1948 کے اقوامِ متحدہ کے 'نسل کشی کی روک تھام اور سزا' کنونشن کی خلاف ورزی کے الزام کے تحت اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا تھا۔

عدالت نے 26 جنوری، 28 مارچ اور 24 مئی 2024 کو تین علیحدہ عبوری اقدامات کے فیصلے جاری کیے تھے۔

ان فیصلوں میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو نسل کشی کنونشن کی دفعہ 2 میں متعین اعمال کے ارتکاب کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے چاہئیں، اسرائیلی فوج کو ایسے اقدام فوراً نافذ کرنے چاہئیں جو نسل کشی کے جرائم کو روکیں، خصوصاً رفح میں ایسے فوجی آپریشنز ختم کیے جائیں جو نسل کشی کے خطرے کو پیدا کر سکتے ہوں، اور کیے گئے اقدامات کی باقاعدگی سے عدالت کو اطلاع دی جائے۔

اسرائیل نے دو بار وقت میں توسیع کی درخواست کرنے کے بعد 12 مارچ کو اپنا جواب نامہ عدالت میں جمع کروایا تھا۔

ترکیہ، اسپین، نیدرلینڈز، آئرلینڈ، کولمبیا، میکسیکو، چلی، بولیویا، کیوبا، بیلیز، برازیل، کوموروس اور نمیبیا سمیت متعدد ممالک اس مقدمے میں مداخلت کرنے والی فریقین میں شامل ہیں۔

 

دریافت کیجیے
27 ممالک بحرانی فنڈز تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں، رپورٹ
پاکستانی وزیر اعظم اسٹریٹیجک تعلقات کو مضبوطی دلانے کی غرض سے  چین کے دورے پر
روس کے زیر کنٹرول لوہانسک میں کالج اور ہاسٹل پر یوکرین کے حملے میں چار افراد ہلاک اور 35 زخمی: روس
ایتھنو اسپورٹس  فیسٹیول استنبول میں شروع ہو گیا
پاکستانی وزیر داخلہ کے امریکہ-ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر تہران میں تازہ مذاکرات
نیٹو کے روٹے کا کہنا ہے کہ اتحاد مضبوط راہ پر ہے، ایک اتحادی پر زیادہ انحصار نہیں کرتا
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملہ،4 افراد ہلاک
امریکہ  نے تائیوان کے لیے 14 بلین ڈالر کے اسلحے کی فروخت روک دی
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں
پاکستان نے کوششیں تیز کر دیں
ترکیہ: اردوعان۔ادریس ملاقات
امریکی کانگریس میں ایک منٹ کی خاموشی
حزب اللہ کے 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوجی قوتوں پر 24 حملے
مسلّح تنازعات میں شہریوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے: ترکیہ
امریکہ نے فرانسیسکا البانیس کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا