سیاست
1 منٹ پڑھنے
یوکرین کا پوٹن کو کھلا خط: زیلینسکی کی بالمشافہ مذاکرات کی دعوت
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی نے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کسی غیر جانبدار تیسرے ملک میں بالمشافہ مذاکرات کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سوئٹزرلینڈ، ترکیہ یا عرب ممالک کی تجویز پیش کی ہے۔
یوکرین کا پوٹن کو کھلا خط: زیلینسکی کی بالمشافہ مذاکرات کی دعوت
زینسکی کا پوتن کے نام خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی توجہ ایران کے خلاف تعطل کا شکار جنگ پر پوری طرح مرکوز ہے۔ / Public domain

زیلینسکی نے تجویز دی ہے کہ ان مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کی جائے اور قیدیوں کا تبادلہ عمل میں لایا جائے۔ اپنے خط میں یوکرینی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روس اس جنگ کو 2027 اور 2028 تک طول دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور فوجی نقصانات کی وجہ سے ماسکو دن بہ دن جنگ کی بھاری قیمت محسوس کر رہا ہے۔

دوسری جانب، کریملن نے اس دعوت پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے پرانے موقف کو دہرایا ہے کہ اگر زیلینسکی مذاکرات چاہتے ہیں تو وہ خود ماسکو آئیں۔