ملائیشیا نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ پر غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حالیہ دھاوے اور مقدس اسلامی مقام کے اندر اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذّمت کی اور اسے سنگین اشتعال انگیزی اور عبادت گاہ کے تقدس کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ملائیشیا وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کو یہودی رنگ دینے کی ہر کوشش قابلِ نفرت اور اس مقدّس مقام کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔
غیر قانونی اسرائیلی آبادکار بروز اتوار پولیس کی زیرِ حفاظت مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوئے۔ مسجد کے صحنوں میں اشتعال انگیز رسومات انجام دیں اور اسرائیلی پرچم لہرائے۔
وزارت نے کہا ہے کہ آبادکاریہ اقدامات اسرائیل کی پشت پناہی میں کر رہے ہیں اور ان کا مقصد زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ مسجدِ اقصیٰ کی ثقافتی، تاریخی اور مذہبی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔
وزارت کے مطابق"ایسے اقدامات ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی ہیں اور بیت المقدّس میں مقدس اسلامی مقامات پر نگرانی کے کردار کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ جب دشمنی اور جارحیت سب کے سامنے جاری ہو تو بین الاقوامی برادری خاموش نہیں رہ سکتی۔"
ملائیشیا نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ جاری خلاف ورزیوں کو روکنے اور اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔
ملائیشیا نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اور، 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے اندر اور مشرقی بیت المقدّس کے دارالحکومت والی، ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ 2003 سے اسرائیلی پولیس یکطرفہ طور پر آبادکاروں کو جمعہ اور ہفتہ کے علاوہ ہر روز صبح اور دوپہر کے وقت مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دیتی چلی آ رہی ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل، مسجدِ اقصیٰ سمیت پورے مقبوضہ مشرقی بیت المقدّس کو یہودی رنگ دینے کی کوششوں اور شہر کی عرب و اسلامی شناخت کو مٹانے کی مہم میں تیزی لا رہا ہے۔
فلسطینی، مشرقی بیت المقدّس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھتےاور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قراردادیں 1967 میں اسرائیل کے شہر پر قبضے یا 1980 میں اس کے الحاق کو تسلیم نہیں کرتیں۔













