اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ تل ابیب اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنے جاری حملے جاری رکھے گی۔
روزنامہ 'یدیعوت احرونوت' کی جانب سے نقل کیے گئے بیانات کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ میں نے آج شام صدر ٹرمپ سے بات کی اور انہیں بتایا کہ اگر حزب اللہ نے ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے اس کے ساتھ ہی فوج جنوبی لبنان میں طے شدہ منصوبے کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملے روکنے کے لیے ایک مفاہمت طے پا گئی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے بتایا تھا کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے فون پر بات چیت کی جس میں انہوں نے لبنان اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ پیش رفت لبنان میں اسرائیلی فوجی کشیدگی کے درمیان اور نیتن یاہو کی جانب سے فوج کو لبنانی دارالحکومت بیروت میں حملے کرنے کے حکم کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔
ایرانی میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے لبنان میں اسرائیلی کشیدگی کے باعث واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے پیر کی صبح بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن امریکی مداخلت کے باعث بمباری کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔









