سرکاری ذرائع نے انادولو کو بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دو ہفتوں کے عارضی جنگ بندی کے بعد مستقل فائر بندی کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے مرحلے کا آغاز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا ہے ۔
ذرائع کے مطابق، دونوں وفد ہفتہ کو دارالحکومت کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستانی حکام کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے پیشگی انتظامات کیے جا سکیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ "ہم اس وقت یہ نہیں کہہ سکتے کہ دونوں وفد کب آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ فی الحال وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔"
نیشن نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہو گئے ہیں اور ساتھ ہی کہا کہ تہران ' مستقبل قریب میں' آبنائے ہرمز کھول دے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے انداز میں نہیں ہوئے تو 'ہم دوبارہ اس عمل پر سوچ و بیچار کریں گے۔'
ان حساس مذاکرات، جنہیں 'اسلام آباد مذاکرات' کہا جا رہا ہے، کا آغاز اسی روز ایرانی اور امریکی وفود کی پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے فوراً بعد ہوا۔
ان مذاکرات کے لیے امریکی اور ایرانی وفد الگ الگ اسلام آباد پہنچے، جو 1979 کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ایک اہم اعلیٰ سطحی دوطرفہ رابطے کی علامت ہے۔
امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں، جس میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی علی باقری کنی اور دیگر شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں اسلام آباد کی نمائندگی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جب کہ فوج کے سربراہ عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی ان کے معاونین کے طور پر موجود ہیں۔








