فرانس کے وزیرِ انصاف جیرالڈ دارمانن نے ہفتے کے روز منعقدہ زرد جیکٹ تحریک کے دوران تشدد کے واقعات پیش آنے والے شمالی شہر لیل کا دورہ کیا۔
دارمانن نے وہاں کہا کہ وہ زرد جیکٹ تحریکوں کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات کے خلاف عدالتی ردِ عمل سے مطمئن ہیں۔
فرانسیسی وزیر نے اعلان کیا کہ مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ یا لوٹ مار میں ملوث 149 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری طرف، قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہفتے کے روز دارالحکومت میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے دوران دو افراد کی ہلاکت کے حوالے سے تفتیش شروع کی گئی ہے۔
پیرس پولیس کے بیان کے مطابق، پیرس میں ریپبلک اسکوائر کے نزدیک 17 اکتوبر کو ایک 59 سالہ شخص بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا تھا۔
متاثرہ شخص کو ابتدائی طبی مرکز لے جایا گیا، جہاں تمام کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکا۔
واقعات کے دوران بیہوش ہونے والے ایک 48 سالہ شخص کی لاش بھی 19 اکتوبر کی صبح پیرس کی برگر سٹریٹ سے ملی۔
فرانس میں مظاہرے
طالب علموں کی بھی حمایت حاصل کرنے والے زرد جیکٹ نے مہنگائی اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف 17 اکتوبر کو ملک گیر مظاہرے کیے۔
مظاہروں کے دوران تقریباً 2 ہزار 500 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ ایک ہزار سے زائد پولیس، جنڈارمری کے اہلکار اور فائر فائٹر زخمی ہوئے۔
تشدد کا ماحول پیدا ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 3 ہزار دکانوں کو نقصان پہنچا یا لوٹ مار کا شکار ہوئیں۔
لیموج کے میونسپل ہال اور لیون میں ٹورازم آفس کو آگ لگا دی گئی، جبکہ مارسی کے مظاہرین نے میونسپل عمارت کو نقصان پہنچایا۔
مظاہروں میں جن کے کاروبار کو نقصان پہنچا، انہوں نے حکومت پر بحران کو قابو میں رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
سینکڑوں مظاہرین 18 اکتوبر کو پیرس میں دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے۔
مقامی حکام نے ممکنہ مظاہروں کو روکنے کے لیے پیرس، لیل، لیون، نائس اور مارسی سمیت بعض علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
























