یورپی پارلیمنٹ کے چیف مذاکرات کار 'برنڈ لانگے' نے کہا ہےکہ یورپی پارلیمنٹ اور یورپی یونین ممالک کے مذاکرات کار، یورپی یونین اور امریکہ کے تجارتی معاہدے سے متعلق قانون سازی پر اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
آج بروز بدھ یورپی یونین حکومتوں کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد جاری کردہ بیان میں لانگے نے کہا ہے کہ مذاکرات میں خاص طور پر حفاظتی طریقہ کار اور مجوّزہ ضوابط کے جائزہ مراحل کے حوالے سے "اچھی پیش رفت" ہوئی ہے۔
لانگے نے کہا ہے کہ "ہم نے ابھی تعمیری سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دور مکمل کیا ہے۔ مذاکرات میں حفاظتی طریقہ کار اور بنیادی ضابطے کے جائزے اور جانچ کے حوالے سے اچھی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی مزید کام باقی ہے"۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ مذاکرات کار "تیزی سے اور ذمہ دارانہ شکل میں" کام جاری رکھیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یورپی یونین، اپنے جمہوری طریقہ کار اور قانون سازی کے نظام الاوقات کی پابندی کرتے ہوئے، ٹرن بیری معاہدے پر 'لفظی و حقیقی ہر دومعنوں میں"مکمل طور پر عمل کرے۔
مذاکرات کا اگلا دور 19 مئی کو اسٹراسبرگ میں ہوگا۔
یہ مجوزہ قانون سازی یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان ٹرن بیری تجارتی معاہدے سے متعلق ہے، جس پر 27 جولائی کو اسکاٹ لینڈ کے شہر ٹرن بیری میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لئین نے دستخط کیے تھے۔
اگست میں جاری کئے گئے مشترکہ بیان کے مطابق یہ معاہدہ کسٹم ڈیوٹیوں میں کمی اور امریکہ و یورپی یونین کے درمیان وسیع تجارتی تعاون پر مرکوز تھا۔
یورپی کمیشن نے کسٹم ڈیوٹی سے متعلق شقوں پر عمل درآمد کے لیے 28 اگست کو دو قانونی تجاویز پیش کی تھیں۔ ان میں سے ایک تجویز امریکہ کی بعض مصنوعات کو یورپی یونین کی منڈی تک ترجیحی رسائی فراہم کرتی ہے، جبکہ دوسری تجویز مخصوص لابسٹر مصنوعات کی درآمد پر صفر کسٹم ڈیوٹی کے نظام کو توسیع دیتی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے 23 مارچ کو کونسل کے ساتھ مذاکرات کے لیے اختیار نامہ منظور کر لیا تھا۔










