ایران نے کہا ہے کہ ہم، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےمشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی پیش کش مسترد کرنے کے باوجود، آبنائے ہرمز کو بحری سیر و سفر کے لیے کھولنے کی شرائط پر قائم ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن IRIB کی خبر کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران انتظامیہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ شرائط میں خطے میں تنازعات کا خاتمہ اور مہینوں قبل ٹوٹنے والے 'جنگ بندی معاہدے' کے تحت وعدوں کو پورا کرنا شامل ہے۔ ہماری شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی طرف ہر قدم کا انحصار ان شرائط کی تکمیل پر ہے۔ ہم ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہم نے کبھی سفارت کاری یا مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا، لیکن اس کے ساتھ ہی ہم اپنے حقوق سے بھی کبھی دستبردار نہیں ہوئے"۔
بذریعہ قطر بھیجی گئی 7 شرائط
ایران کی طرف سے بذریعہ قطر، واشنگٹن بھیجی گئی پیشکش میں کہا گیا ہے کہ اگر شرائط مان لی گئیں تو آبنائے ہرمز 7 دنوں کے اندراندر ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دی جائے گی۔ تہران کے مطالبات میں لبنان میں تنازعے اور یمن میں مخاصمانہ کاروائیوں کو ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنا، ایرانی تیل سے پابندیاں اٹھانا اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہیں۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے بروز ہفتہ جاری کردہ بیان میں معاہدے کے لیے تیار ہونے کا ذکر کیا لیکن جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہمیں بھاری نقصان پہنچا ہے لہٰذا ہم، ایک ایسا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جو آبنائے کو فوری طور پر کھول دے۔ میرے خیال میں ایران ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ مجھے بھی معاہدے کرنا پسند ہے۔"
ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے کہا ہےکہ ہم نے ٹرمپ کا پہلا ردعمل دیکھا ہے لیکن ہم ثالثوں کی طرف سے سرکاری بیان کے منتظر ہیں۔توقع ہے کہ ثالث اپنا حتمی مؤقف ہمیں بتائیں گے اور ہم اس کے مطابق اپنا فیصلہ کریں گے۔ اب انتخاب امریکہ کا ہے۔ ایران، دباؤ، دھمکیاں یا ڈراوے قبول نہیں کرتا"۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے بھی تسنیم خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے بیان میں تہران کے پرعزم موقف پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایران کی 7 شرائط پوری نہیں ہوتی ہم امریکہ کو سزا دینا بند نہیں کریں گے۔
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے ملاقات کے دوران کہا ہےکہ "ایران نے مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں اسے اب امریکہ پر اعتماد نہیں ہے۔"
جنگ بندی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کی عالمی رسد کے حوالے سے کلیدی اہمیت کی حامل گزرگاہ 'آبنائے ہرمز'کو، تقریباً سات ماہ قبل ایران پر حملوں سے شروع ہونے والے، واشنگٹن۔ تہران تنازعے کا مرکزی نقطہ بنا دیا ہے ۔
فریقین نے جنگ کے خاتمے، آبنائے کو کھولنے اور جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے جون میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، لیکن یہ معاہدہ کچھ ہی عرصے میں اس وقت ٹوٹ گیا جب ایران نے ،منظور شدہ راستے سے ہٹنے کا دعویٰ کر کے، تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کر دی تھی۔ ایران کی شرط ہے کہ ایران کی سلامتی و خودمختاری کو ملحوظ رکھتے ہوئے، آبنائے سے گزرنے سے پہلے بحری جہاز اجازت لیں۔
ایران اس شرط کی تعمیل نہ کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا اور جوابی کارروائی میں امریکہ ایرانی ساحلی علاقوں پر بمباری کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب اور روس کا بیان
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہےکہ عالمی برادری آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رکھنے کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سعودی عرب، خواہ کسی بھی فریق کی طرف سے کیوں نہ ہو، ان کلیدی بحری گزرگاہوں کو، دیگر ممالک کے ریاستی مفادات پر دباؤ ڈالنے اور دھمکی یا نقصان پہنچانے کا آلہ بنائے جانے کو مسترد کرتا ہے۔"
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو خطے میں استحکام کی یقین دہانی کی خاطر کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔ روس دیگر ذمہ دار ریاستوں کے ساتھ مل کر اس اہم خطے کے استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے حاضر ہے۔



















