ایران نے کہا ہے کہ مکّہ معاہدہ اتحادِ مسلمین کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے۔
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہماری نگاہ میں، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا، 'مکہ دفاعی معاہدہ'مسلمانوں کے اتحاد کے لیے اٹھایا گیا قدم ہے۔ یہ مسلمانوں کی یکجہتی اور تفرقے کی بجائے اسلامی اتحاد کے حصول کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
انہوں نے قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن کے لئے انٹرویو میں خطّے کی پیش رفتوں، امریکہ۔ ایران مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور علاقائی ممالک کے ساتھ تہران کے تعلقات کا جائزہ لیا۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ مسلمانوں کے اتحاد کی خاطر اٹھایا گیا ایک مثبت قدم ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ یہ، معاہدہ ایران کے خلاف ہے پزشکیان نے کہا ہے کہ "یہ قدم مسلمانوں کو شانہ بشانہ کرنے اور تفرقےکی بجائے اسلامی اتحاد کے حصول کی جانب بڑھانے والا قدم ہو سکتا ہے۔
ہمیں امریکہ پر اعتماد نہیں ہے
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ تہران، امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے، واشنگٹن پر اعتماد نہیں کرتا۔ہمیں امریکی فریق پر کوئی اعتماد نہیں ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کس بنیاد پر معاہدہ ہو سکتا ہے۔"
پیزشکیان نے زور دے کر کہا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ، ایران کی تازہ ترین تجویز کے بارے میں، اپنا موقف واضح کرے گا۔ ہم نے، ثالث ممالک قطر اور پاکستان کی وساطت سے، ایران کے پیغامات واشنگٹن تک پہنچائے ہیں۔
"ہرمز کو بند کرنا ایک فطری ردعمل ہے"
ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہ ایران آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ہے، پیزشکیان نے دلیل دی ہے کہ ہرمز میں ٹرانزٹ راستے، ایران مخالف استعمال کے لئے بند کئے گئے ہیں۔ پیزشکیان نے کہا ہے کہ آبنائے کی بندش، ایران کے راستوں پر بندش کا، قدرتی ردعمل ہے۔ مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو تجارتی بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
پیزشکیان نے امریکہ کو جنگ کا جارح قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ایران نے تقریباً دو سو سال سے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔
"ہمیں علاقائی پولیس کی ضرورت نہیں"
اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ علاقائی سلامتی علاقائی ممالک کے تعاون سے حاصل کی جا سکتی ہے، پزشکیان نے کہا ہے کہ "ہمیں علاقائی پولیس کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرکے خطے کے وسائل پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس وقت سعودی عرب عالم اسلام کے اتحاد کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
’’حوثیوں کی کارروائیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں‘‘
یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے، پزشکیان نے کہا ہے کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔’’بھائی کو اپنے مسلمان بھائی سے نہیں لڑنا چاہیے۔‘‘
ایران کی ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پزشکیان نے کہا ہے کہ ملک میں بے مثال اتحاد و یکجہتی ہے اور ہم، ایران کے داخلی حالات میں جمع مسائل پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں۔
پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو خود کفیل بننے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمارے ملک کے لوگ زندگی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں گے۔



















